Skip to product information
1 of 1

پرانا لاہور | PUrana Lahore کرنل ایچ آر گولڈنگ

پرانا لاہور | PUrana Lahore کرنل ایچ آر گولڈنگ

Regular price Rs.400.00 PKR
Regular price Rs.500.00 PKR Sale price Rs.400.00 PKR
Sale Sold out
Shipping calculated at checkout.
Quantity

لاہور کی مشہورِ زمانہ ’’ مال روڈ‘‘ کے 1851ء میں ارتقاء اور تعمیر( جب انارکلی سے میاں میرؒ جانے والی براہِ راست سڑک کو یہ نام دیا گیا) سے اس کی موجودہ حالت تک کی چند تفصیلات بیان کرنے کے بعد اس کا ایک تحریری خاکہ پیش کرنا دلچسپی کا باعث ہوسکتا ہے۔ میاں میرؒ کی طرف سے آتے ہوئے نہر پار کرنے کے بعد سڑک کے دونوں جانب چٹیل میدانوں کے سوا کچھ بھی دیکھنے کو نہیں ملتا تھا، ماسوائے بائیں جانب ایک دو منزلہ پرانے سے بنگلہ کے، جو اب ہز ہائی نس مہاراجہ پٹیالہ کی ملکیت ہے۔ کچھ برس تک اس میں لاہور کے اینگلیکن بشپ بھی رہے، اسی کے باعث یہ ’’ بشپ بورن‘‘ (Bishop\'s Bourne)کہلاتا تھا۔ مزید آگے چل کر سڑک کے اس جانب لارنس گارڈن اور لارنس و منٹگمری ہال دکھائی دیتے تھے۔ اس کی دوسری طرف گورنمنٹ ہائوس تھا۔ گورنمنٹ ہائوس سے ہوکر ہم ’’ارونڈل‘‘ تک پہنچ جاتے تھے، جس میں آر۔ برنی آئی سی ایس اور ان کے بعد سرکاری و غیر سرکاری افسروں کے علاوہ لاہور کی دیگر مشہور و معروف شخصیات قیام پذیر رہیں۔ کشمیر روڈ اور ’’ ارونڈل گیٹ وے‘‘ کے درمیان ایک چھوٹا سا قطۂ زمین ہے، میرے خیال میں ابھی تک کچھ لوگ اسے ’’برنی گارڈن‘‘ کہتے ہیں۔ اس کے بعد ہم چلتے ہوئے قدیم پنجاب کلب تک آجاتے تھے، جو ایک مہیب سی بیرک نما عمارت کی شکل میں ہے۔ اس کے عقب میں ریکٹ کورٹ موجود ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ایجرٹن روڈ قبل ازیں ’’ ریکٹ کورٹ روڈ‘‘ کے نام سے کیوں مشہور تھی۔ اس مقام پر نیڈو ہوٹل ( اب آواری ہوٹل قائم ہے جو اس سے قبل ہلٹن ہوٹل تھا)قائم تھا۔ سڑک کے دوسری جانب اس جگہ کوئی عمارت موجود نہیں تھی، جہاں 1916ء میں میسن لاج کی نئی عمارت تعمیر کی گئی۔ اسی طرح چیئرنگ کراس اور ہال روڈ چوک کے درمیان بھی کوئی عمارت نہیںتھی، ماسوائے مسٹر بریمر کے فوٹوگرافی سٹوڈیوکے، جو ایک خوبصورت انیکسی میں قائم تھا۔اس کے سامنے صرف تین بنگلے تھے۔ ایک بنگلہ جس میں اس وقت ڈائریکٹر آف انڈسٹریز کا دفتر قائم ہے، وہ دراصل مسٹر ڈیو جانسن کی جاگیر ’’ بیوپارک‘‘ تھا۔ اور اب جو عمارت فورڈ موٹر کمپنی کی ملکیت ہے، اس میں رڈیارڈ کپلنگ نے اخبار ’’ سول اینڈ ملٹری گزٹ‘‘ میں صحافی کی حیثیت سے اپرنٹس شپ کی تھی۔ یہ عمارت 1880ء کے اوائل میں حکومتِ پنجاب کے ملٹری سیکرٹری کا دفتر بھی رہی۔ اس وقت جو عمارت سنی ویو ہوٹل کے نام سے معروف ہے، اسے لاہور کے سابق پوسٹ ماسٹر مسٹر جارج نے نجی رہائش گاہ کے طور پر تعمیر کروایا تھا، یہ عمارت مال روڈ سے ذرا ہٹ کر تعمیر کی گئی ہے۔ ہال روڈ چوک اور لارنس کے مجسمہ کے درمیانی حصہ میں سڑک کے دائیں جانب صرف ایک عمارت دکھائی دیتی تھی، جس میں کئی برس تک آنجہانی جیس ڈیوی سن کی کیرج شاپ قائم رہی۔ بائیں جانب دو پرانے بنگلے تھے، ان میں سے ایک حالیہ برسوں میں ’’ ایکسچینج بلڈنگ‘‘ کے نام سے مشور تھا۔ اسے مسمار کرکے سرگنگا رام کے کاروباری مرکز پر مشتمل بلاک کے لیے جگہ بنائی گئی ہے۔ دوسری عمارت متعدد برس تک میسرز فلپس اینڈ کمپنی کے قبضہ میں رہی، اسے دو برس قبل بمبئے سائیکل اور موٹر ایجنسی کے شوروم اور ورکشاپوں کے لیے جگہ مہیا کرنے کی غرض سے مسمار کر دیا گیا۔ اب جس مقام پر لارنس کا مجمسہ ایستادہ ہے، اس کے قریب کہنہ پنجابی اینٹوں سے تعمیر ہونے والی ایک مشہور و معروف مینار نما چوکور عمار ت قائم تھی۔ یہ عمارت کئی برس تک برطانوی فوج کے ایک سابق افسر کی رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی، جس نے سکھ جنگوں کے دوران فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد پنجاب سول سیکرٹریٹ میں کلرک کی حیثیت سے ملازمت اختیار کرلی تھی۔اس نے اپنی وفات تک یہ ملازمت کی۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا ہندوستان میں کوئی دوست اور رشتہ دار نہیں تھا، چناں چہ اس نے باقی ماندہ زندگی گوشہ نشینی میں گزار دی۔(کرنل ایچ آر گولڈنگ کی کتاب ’’ پرانا لاہور‘‘ سے اقتباس)

View full details