Skip to product information
1 of 1

Nasab Ka Muqadma نصاب کا مقدمہ Gorish

Nasab Ka Muqadma نصاب کا مقدمہ Gorish

Regular price Rs.1,000.00 PKR
Regular price Rs.1,200.00 PKR Sale price Rs.1,000.00 PKR
Sale Sold out
Shipping calculated at checkout.
Quantity

99 in stock

دنیائے ادب میں مختلف اور اہم موضوعات پر خطوط کی شکل میں کتابیں لکھنے کی روایت مغرب اور اردو ادب دونوں میں موجود رہی ہے۔ مغرب میں فلسفیانہ موضوعات کو خطوط میں پیش کرنے کا رجحان نیا نہیں ہے۔ جیسا کہ فریڈرک شلر نے ''انسان کی جمالیاتی تعلیم'' کے عنوان سے کتاب شائع کی۔ اسی طرح مولانا آزاد کی ''غبار خاطر'' غالب کے اردو و فارسی میں لکھے گئے خطوط، منٹو اور اقبال کے خطوط وغیرہ۔

گورش کی پہلی کتاب بہ عنوان ''بُرے آدمی کے خطوط'' اپنے موضوعات کے اعتبار سے اردو زبان میں واحد مثال ہے۔ گورش کی اب یہ دوسری کتاب بھی اسی کا تسلسل ہے۔ گورش مابعد جدید فکر کا حامل مفکر ہے۔ اس کتاب میں بھی فلسفیانہ موضوعات کے علاوہ مابعد جدید فکر کے اہم موضوعات جیسے مہابیانیے سے متعلق تشکیک، سچ کا اضافی ہونا، حتمی معنی کی عدم تعیین، شناخت کا قضیہ وغیرہ زیر بحث آئے ہیں۔ گورش نے ان موضوعات کا صرف تعارف پیش نہیں کیا بلکہ ان موضوعات کا خطوط کی شکل میں تنقیدی تجزیہ پیش کیا ہے۔ میں یہاں یہ تجویز بھی دوں گا کہ وہ تمام احباب جن کے نام خطوط لکھے گئے ہیں انہیں گورش کے اٹھائے ہوئے نکات کا جواب دینا چاہیے اور گورش کو چاہیے کہ اگلی کتاب میں ان جوابات کو بھی شامل کریں۔ فرانسیسی فلسفی رینی ڈیکارٹ نے اپنی اہم کتاب "تفکرات" پر کیے گئے اعتراضات کو جوابات سمیت شامل کیا تھا۔ اس طرح پیچیدہ موضوعات کی مزید گرہیں کھلتی ہیں اور قاری کے لیے تفہیم قدرے آسان ہو جاتی ہے۔

گورش کو میں گزشتہ بارہ برس سے جانتا ہوں۔ اس کے اندر علمی حوالے سے جو تجسس اور اضطراب پایا جاتا ہے وہ میں نے بہت کم لوگوں میں دیکھا ہے۔ گورش نئی نسل کا ایک ایسا "روشن خیال" مفکر ہے جس کی ایک قدامت پسند سماج کو ضرورت ہے۔ اس کی علم دوستی نے اس کی فکر کو منطقی طور پر مربوط کرنے اور اس میں تسلسل کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پیچیدہ اور قدرے مبہم مابعد جدید "تصورات" کے درمیان منطقی ربط کو قائم رکھ کر تحریر کرنا اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ ان کی واضح تفہیم نہ ہو چکی ہو۔ گورش کو پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ اس نے یہ مراحل طے کر لیے ہیں اورایک اہم "کلامیہ" جو اس کی کتاب کی زیریں سطوح میں موجود ہے، وہ اگلی کتاب میں پوری قوت سے تشکیل پائے گا۔

عمران شاہد بھنڈر

View full details