Skip to product information
1 of 1

تنقیدکی جمالیات تصورات | Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah

تنقیدکی جمالیات تصورات | Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah

Regular price Rs.1,000.00 PKR
Regular price Rs.1,200.00 PKR Sale price Rs.1,000.00 PKR
Sale Sold out
Shipping calculated at checkout.
Quantity

50 in stock

ادب میں ادوار کی تعین کاری کے دوران ہم اکثر بڑے مخمصے میں پھنس جاتے ہیں۔ تاریخی تعین کا ہمارے پاس کوئی ایسا پیمانہ نہیں ہوتا جس کے اطلاق میں ہم ایک دوسرے سے بخوشی اتفاق کرنے کے لیے تیار ہوں اور یہ محسوس کریں کہ ہم نے جو کچھ طے کیا ہے اسے اگلی سلیں بھی بخوشی قبول کر لیں گی ۔ تاریخ کو ہم جتنا شفاف سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں وہ اتنی ہی پچیدہ اور کبھی کبھی گم رہی کا باعث ہوتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ادب میں رجحانات و تصورات کے لحاظ سے کوئی عہد بھی معصوم و بے میل نہیں ہے۔ حتی کہ وہ زمانے بھی کسی ایک جہت کے ساتھ خصوصیت نہیں رکھتے جنھیں محض کسی ایک حاوی تحریک کے ساتھ وابستہ کر کے دیکھا جاتا ہے۔ تخلیقی نفس انسانی ہمیشہ انکار و اقرار کے مابین گردش کرتا رہتا ہے۔ جو جتنا قبول کرتا ہے اتنا ہی اور کبھی کبھی کچھ زیادہ ہی رو کی طرف بھی مائل ہوتا ہے۔ یا اس کے رد کی حیثیت محض ایک سے اتنا محرم کی ہوتی ہے۔ ہر رد و انکار متقی نہیں ہوتا ، وہ منفی کا تاثر دے سکتا ہے۔ اکثر رد و انکار ہی سے انقلاب انگیز تحقیقات و اسالیب نگر نے جنم لیا ہے یا کسی نئی توسیع یا اس کے امکان کی گنجائش بھی نکلی ہے۔ ادب کی تاریخ میں رومانویت کی تحریک ہی وہ پہلی تاریخ ہے جس کی بنیادی شناخت ہی انکار سے قائم ہوتی ہے۔ رومانویت کو نو کلاسیکیت کا رد عمل بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن رومانویت میں کلاسیکی عناصر اور کلاسیکیت میں رومانوی عناصر کی نشاندہی بھی کی جاتی رہی ہے۔ یہی صورت ہر دور کے ادب اور اس سے متعلق رجحان تحریک اور تصور کی ہے۔ حتیٰ کہ یہ آپس میں اتنے خلط ملط ہوتے ہیں کہ انھیں ایک دوسرے سے ممیز کرنا بھی اتنا آسان نہیں ہوتا ۔ باوجود اس کے ہر دور اور ہر نسل کے ذہنی اور حسی تجربوں، نفسیاتی گرہوں کی صورتوں ، ادراک حقیقت کے طریقوں اور بصیرتوں کی نوعیت اور ان کی سطحیں یقینا پیش رو ادوار اور پیش رو نسلوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ یہی وہ میزان ہیں جو مجموعاً شناخت کی کوئی ایک کلید بھی فراہم کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ جدیدیت سے قبل کسی زبان کے ادب میں اتنا بڑا انقلاب رونما نہ ہوا۔

شیکسپیئر نے جب tragic-comedies لکھیں اور کلاسیکی ڈرامائی تکنیکوں سے انحراف کیا تو اسے مطعون بھی کیا گیا ۔ ڈرائڈن، ارسطو کا قائل ہونے کے باوجود اندھا دھند تقلید کا قائل نہ تھا ۔ جدیدیت نے حقیقت پسندی اور نیچر لزم یا روایت سے اپنے رشتے منقطع کرنے کی جو کوشش کی اور ایک نئی بوطیقا کی داغ بیل ڈالنے کا دعویٰ کیا۔ ادب و روایت کی تاریخ میں ایک بہت بڑا دھما کہ تھا۔ رومانویت سے بھی بڑا لیکن اپنے دور میں رومانویت خود ایک بڑے دھماکے سے کم بہ تھی ۔ ماضی کی کسی تحریک یا میلان سے جدیدیت کے سلسلے کو جوڑا جاسکتا ہے تو وہ رومانویت ہی ہے۔ اس معنی میں جدیدیت کو نو رو بانوی رجحان کا نام بھی دیا گیا۔ رومانویت سے انکار کی روش میں غیر معمولی شدت پیدا ہوگئی تھی اور فلسفے اور سائنس کی دنیا میں بھی انقلابی تبدیلیاں عمل میں آرہی تھیں۔ مذہبی اقداری نظام کو کئی قسم کے نئے چیلنجز کا سامنا تھا۔ عقلیت نے مقبول خاص و عام میزان کی حیثیت اختیار کر لی تھی۔ جمالیات کے اکثر ان تصورات کا اثر زائل ہونے کے درپے تھا جو صدیوں سے برقرار چلے آرہے تھے اور جن سے روگردانی عقائد سے روگردانی کے برابر تھی۔ اس تبدیل شدہ صورت حال میں اظہار و خیال کی آزادی کے تصور نے چیلنج کرنے اور چیلنج قبول کرنے کی صلاحیتوں پر جلا کاری کی اور تشکیک اور سوال زد کرنے کے اس رجحان کو تقویت بخشی جس کے پہلے آثار تیرہویں صدی کے راجر بیکن اور سترہویں صدی کے فرانس بیکن کے یہاں ملتے ہیں۔ گلیلیو ، لاک، نیوٹن، ہیوم، والٹیر اور روسو کے بعد سائنسی دنیا میں ڈارون اور فلسفے کی دنیا میں ہیگل اور بعد ازاں مارکس و اینگلز نے تقریباً سارے اقدار نظام کو الٹ پلٹ دیا۔

دراصل انیسویں صدی سے موجودہ ادوار تک ادبی اور فلسفیانہ سطح پر ہی نہیں مختلف علوم انسانیہ میں بھی مطلقیت نے اضافیت کی جگہ لے لی ۔ ہر سطح پر عقلی دلائل، تجربے اور تحقیق کی اہمیت دو چند ہو گئی۔ سائنس کی دریافتوں نے مذہبی تو ہاتی نظام کی بنیادیں ہلا دیں اور یہیں سے ایک نئی آگہی، ایک نئے شعور کا آغاز ہوا، ماضی سے ہمارا انقطلاع تو نہیں ہو لیکن ہمارے لیے ماضی ایک بار بار دو ہرانے والا سبق نہیں رہا۔ ہم ماضی پر غور کر سکتے ہیں، اس سے بہت کچھ اخذ

View full details