آپ بیتی شہر لاہور Dr. Chandra Trikha Apbiti Shahr Lahore
آپ بیتی شہر لاہور Dr. Chandra Trikha Apbiti Shahr Lahore
Couldn't load pickup availability
100 in stock
پیش لفظ
میرا کتاب کے مصنف ڈاکٹر چندر ترکھا صاحب سے پہلا رابطہ اس وقت ہوا جب میں اپنی ماں بولی ہریانوی کے ادب و ثقافت کی تلاش میں دیو ناگری سیکھ چکا تھا اور ہریانہ کے دوستوں کے توسط سے کچھ ترجمہ بھی کر چکا تھا۔ تو معلوم ہوا کہ ہریانہ ساہیتہ اکیڈمی کے چئیرمین ہیں ترکھا صاحب، تو میں نے ان سے رابطہ کرنے کا ارادہ کیا تاکہ اردو ساہیتہ اکیڈمی میں اگر کچھ ہریانوی زبان کے بارے میں مل جائے تو اس سے استفادہ کیا جاسکے۔ ڈاکٹر صاحب کو ای۔میل کی تو ان کی طرف سے جواب آگیا اور انہوں نے اپنے یو ٹیوب چینل پر میرے لئے ایک وڈیو بھی ڈالی۔ پھر مجھے ان کی لکھی ہوئی کتاب " لاہور۔ ایک شہر کی آپ بیتی" ملی ۔ اسے پڑھا تو لگا کہ یہ ایک اہم دستاویز ہے جس میں تاریخ کے حوالہ جات کے ساتھ لاہور صیغہ واحد متکلم میں نہ صرف اس کے ساتھ ہوئی زیادتیوں اور برس ہا برس ہوتی ہوئی تبدیلیوں ، لوٹ مار، جنگیں اور تعمیرات بتاتا ہے بلکہ لاہور سے جڑی نامور شخصیات جیسے حضرت داتا گنج بخش ، میاں میر، مادھو لعل حسین، علامہ اقبال، فیض احمد فیض، نورجہاں وغیرہ کے بارے میں بھی مستند معلومات ہیں۔ اور یوں اس کتاب کا ترجمہ شروع ہوا
ڈاکٹر صاحب 1988 میں پاکستان آئے اور لاہور کی سیر کی۔ میری ان سے بات ہوئی تو پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب کے خاندان نے پاکپتن کے علاقے سے ہندوستان کی طرف ہجرت کی تھی۔ یہ جو بٹوارہ ہے نہ، اس نے دونوں طرف کے لوگوں کو اتنے دکھ اور تکالیف دی ہیں جو ان سے جڑے لوگ ہی بہتر جانتے ہیں۔ ہم اپنے والدین سے یہ سارے حالات سنتے رہے اور اب ہم اپنے بچوں کو سناتے ہیں۔ خیر ڈاکٹر صاحب نے خوب لاہور کی سیر کی اور واپس جا کر انہوں نے لاہور شہر کی آپ بیتی لکھ دی۔ تقسیم سے پہلے کے ہندوستان میں لاہور ہی پنجاب کا سب سے بڑا اور اہم ادبی معاشی مرکز تھا۔ دہلی کے بعد لاہور کو ہی اہم سمجھا جاتا تھا۔ وہ جو مقولہ ہے " جِس لہور نئیں ویکھیا، او جمیا ء نئیں" ایسے ہی مشہور نہیں ہو گیا تھا۔ میرے ایک اور دوست جو اس وقت دہلی یونیورسٹی کے پی۔آر۔او ہیں، ان کے والد صاحب نے بی۔اے لاہور سے کیا تھا۔ مرتے دم تک لاہور کو یاد کرتے رہے اور اردو پڑھنے کے دیوانے تھے۔ یہ کتاب ہمیں ایک ہندوستانی کی آنکھوں سے دیکھا ہوا لاہور دکھاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جو انہوں نے تاریخ کے حوالے دئیے ہیں ان سے اس کتاب کی اہمیت میں اور اضافہ ہو گیا ہے۔
میرے لیے یہ امر باعثِ اعزاز ہے کہ مجھے اس اہم تصنیف کو ہندی سے اردو کے قالب میں ڈھالنے کا موقع ملا۔ یہ کتاب محض معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ اپنے عہد کی فکری، ادبی اور تاریخی روایت کی آئینہ دار ہے۔ اسی لیے اس کے ترجمے کا عمل میرے نزدیک ایک ذمہ دارانہ علمی و ادبی فرض تھا، جس میں اصل متن کی روح، اسلوب اور تہذیبی پس منظر کو برقرار رکھنا بنیادی مقصد رہا۔
ہندی اور اردو دونوں برصغیر کی ہم رشتہ زبانیں ہیں، جن کی جڑیں ایک ہی تہذیب کی مٹی میں پیوست ہیں۔ تاہم، ان کے اسالیبِ بیان، محاورات اور ادبی رنگ میں بعض باریک فرق موجود ہیں۔ اس فرق کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے میں نے اس ترجمے میں ایسی زبان اختیار کرنے کی کوشش کی ہے جو نہ صرف بامحاورہ اور رواں ہو بلکہ علمی و ادبی وقار کی حامل بھی ہو۔ جہاں ضروری محسوس ہوا، وہاں مفہوم کی وضاحت اور تاریخی تناظر کی درست ترجمانی کے لیے مناسب اسلوبی تبدیلیاں بھی کی گئی ہیں۔
اس کتاب کی علمی اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ یہ اپنے موضوع کو محض بیان نہیں کرتی بلکہ اس کے تاریخی ارتقا، فکری جہت اور ادبی پہلوؤں کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ مترجم کی حیثیت سے میری سعی یہی رہی ہے کہ یہ تمام جہات اردو قارئین تک اسی معنوی گہرائی اور فکری وسعت کے ساتھ منتقل ہو سکیں جس کے ساتھ وہ اصل زبان میں موجود ہیں۔
مجھے امید ہے کہ یہ ترجمہ نہ صرف عام قارئین کے لیے معلومات میں اضافے کا باعث بنے گا بلکہ اہلِ علم و تحقیق کے لیے بھی مفید ثابت ہوگا، اور برصغیر کی مشترکہ لسانی و ادبی روایت کو سمجھنے میں معاونت کرے گا۔
آخر میں، میں ڈاکٹر چندر ترکھا صاحب کا تہہِ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے کتاب کا ترجمہ کرنے کی اجازت دی اور میں سندھی کے مشہور افسانہ اور ناول نگار زیب سندھی اور ڈاکٹر صفدر رشید صاحب کا ممنوں ہوں جن کی مسلسل حوصلہ افزائی اور رہنمائی اس سفر میں شامل رہی۔صفدر رشید صاحب خود بھی ایک تنقید نگار، کئی کتابوں کے مصنف اور میرے بہت اچھے دوست ہیں اور ان کے ساتھ مل کر میں ایک دو اور پراجیکٹ پر بھی کام کر رہا ہوں۔
اختر مرزا
اپریل 2026
