Skip to product information
1 of 1

Zard Qaidi زرد قیدی A Tale Of Radioactive Apocalypse Safdar Zaidi

Zard Qaidi زرد قیدی A Tale Of Radioactive Apocalypse Safdar Zaidi

Regular price Rs.1,000.00 PKR
Regular price Rs.1,400.00 PKR Sale price Rs.1,000.00 PKR
Sale Sold out
Shipping calculated at checkout.
Quantity

299 in stock

مہا بھارت میں درونا چاریہ کے بیٹے اکثرت تھاما نے نرائنا ستر (اساطیری ایٹم بم ) استعمال کیا تو کرشن نے اسے شیطان بنا کر ابدی زندگی کا شراپ دیا تھا۔ اس کے بعد سے اشوت تھا ما زندہ ہے اور اس کی شیطانیت بھی ، جو ایٹم بم کی صورت برصغیر باسیوں کے سروں پر بالخصوص منڈلا رہی ہے۔ صفدر زیدی اس شیطانی منبع کو تلاش کرتے ان یورینیم کی کانوں تک قاری کو لے جاتے ہیں، جن کا زہر کان کنوں کے پھیپھڑوں میں دھول کی شکل میں ، اور حساس ذہنوں میں خوف کی صورت اتر کر ہر دم ایک نئی قسم کا نرائنا ستر بنا رہا ہے۔ ایٹم بم والا برصغیر اشوت تھاما کے بھوت سے نجات پانے کے لیے شانتی منتر ڈھونڈ رہا ہے جس کا ایک سر صفدر زیدی نے بھاگ بھری کی صورت پھونکا اور دوسرا زرد قیدی کی شکل میں ۔ یہ دونوں ناول اصل میں اس اجتماعی ظلم کے خلاف قلمی مزاحمت ہیں۔

جدید اشوت تھاما سے بچاؤ کا راستہ صرف جغرافیائی فرار میں ہی نہیں، بل کہ اس ظلم کی پہچان اور اس کے خلاف آواز بلند کرنے میں ہے، خواہ وہ ظلم ریاستی سطح کا مقامی ہو یا ما حولیاتی تباہی کا عالمی۔

صفدر زیدی کے یہاں ایٹم بم محض ایک ہتھیار نہیں بل کہ انسانی اجتماعی ضمیر کے زوال، اخلاقی تباہی اور کرہ ارض کی ماحولیاتی بر بادی کی علامت ہے۔ انھوں نے یورینیم کی کانوں میں کام کرنے والے ان مزدوروں کے ذریعے زمین کے دُکھ اور انسان کے لالچ کی تہ تک اُترنے کی کوشش کی ہے جو موت کی آغوش میں اُترتے ہوئے بھی انسان کے تحفظ کا خواب دیکھتے ہیں۔ زرد قیدی کے یہ مزدور زمین کے فطری رزق کو زہر میں بدلنے والے اس نظام کے گواہ ہیں جو ترقی کے نام پر تباہی لکھ رہا ہے۔ یورینیم کی کانوں کے اندھیرے، مزدوروں کے پینے اور ایٹمی توانائی کے مصنوعی نور کے درمیان صفدر زیدی نے ایک ایسا بیانیہ تخلیق کیا ہے جو بہ یک وقت تہذیبی نوحہ بھی ہے اور انسانی شعور کے تجدیدی امکان کا اشارہ بھی۔ اس ناول میں ایلیز کا ظہور محض تخیلاتی حربہ نہیں بل کہ زمین کے باسیوں پر ایک خارجی نظر ہے یا وہ تمثیلاً انسانیت کا اجتماعی ضمیر ہیں جو کرہ ارض پر ہونے والے ظلم پر حیران ہیں کہ انسان اور اس کا یہ گھر دونوں ایک دوسرے سے کیسے اجنبی ہو چکے ہیں۔ انسان جس ترقی پر نازاں ہیں ، وہ دراصل بر بادی ہے، اور ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب خود انسان کے پاس نہیں۔

غلام اصغر خان

View full details