تنقیدکی جمالیات مارکسیت، نو مارکسیت، ترقی پسندی | Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah
تنقیدکی جمالیات مارکسیت، نو مارکسیت، ترقی پسندی | Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah
Couldn't load pickup availability
50 in stock
مارکسیت نے ہمارے زمانوں میں ایک انتہائی مسائلی فلسفے کی نوعیت اختیار کر لی ہے۔ اس میں بھی شبہ نہیں کہ تصورات کی تاریخ میں وہ ہنوز سب سے دھما کہ خیز اور اثر گیر دانشورانہ تحریک کا حکم رکھتی ہے۔ مارکسیت نے زندگی اور علم کے تقریبا ہر شعبے پر گہرے اثرات قائم کیے ۔ بالخصوص تاریخ ، سیاسیات، تہذیب، اقتصادیات، سماجیات حتی کہ تحلیل نفسی اور ادبی تھیوری کی تشکیل میں بھی مارکسی تصور کا اثر کسی نہ کسی پہلو سے دیکھا جا سکتا ہے۔
اپنے صحیح ترمعنی میں مارکسیت ایک مازی فلسفہ ہے جو انسانی زندگی میں معمول کا درجہ رکھنے والے تصورات یا عقائد کے مقابلے میں مادی زندگی کی حالتوں کے تقدم پر زور دیتا ہے۔ جس کے نزدیک تاریخ بہ الفاظ مارکس، طبقاتی جدو جہد کی تاریخ ہے۔ جو ان مادی حالتوں کو قابو میں رکھتی ہے جن پر زندگی کا انحصار ہے۔ انہیں حالتوں کی بنیاد پر اور ان کی جدو جہد کے جواب میں تصورات، فلسفے، زندگی کی ذہنی تصویر میں ایک ثانوی مظہر کے طور پر نمو پاتی ہیں۔ یہی ثانوی مظہر وہ ہے جو انسانوں کو ( بقول مارکس ) حقیقت کی ایک صحیح تر تصویر مہیا کرتا ہے۔
روایتی مارکسی مفکرین بنیادی اور بالائی ساخت کے مابین امتیازات کو بہت زیادہ مسئلہ بناتے تھے کہ سماجی بنیاد اپنی ماہیت میں لازما اقتصادی ہے اور بالائی ساخت کا تعلق ان دینی سرگرمیوں اور اعمال سے ہے جنہیں تصورات، عقائد، فلسفہ تعلیم، تہذیب، مذہب (اور بعض سرگرمیوں اور کا مارکسیوں کے نظریے کے مطابق ) فن اور ادب کا نام دیا جاتا ہے۔ نو مارکسیوں نے ان کے مابین اثرات کی منطق پر غیر روایتی طریقے سے بحث کی ہے۔
مارکس کے نزدیک طبقہ اولی کے مقتدر تصورات کا نام آئیڈیولوجی ہے جسے مغلوب طبقے کے لیے ایک طاقتور اوزار کے طور پر کام میں لایا جاتا ہے۔ تعلیم ، تہذیب ، مذہب اور فلسفہ جیسے سماجی ادارے ( سپر اسٹرکچرز) جو اقتصادی نابرابری کی توثیق کرتے ہیں اور جنہیں آسمانی دین یا فطرت کا نام دے کر مجبور و مظلوم طبقہ مقدر کے طور پر قبول کر لیتا ہے۔ مارکس اس قسم کے نظام خیال کو آئیڈیولوجی سے تعبیر کرتا ہے جس کے نزدیک عدم مساوات اور جور و جبر کا درجہ فطری ہے اور جو انہیں قانونی شکل دینے اور ان کے اطلاق میں مدد بھی کرتا ہے۔ اس طرح آئیڈیولوجی دبے کچلے طبقے کو اپنی دلی پچھلی حالت پر قانع کر دیتی ہے۔ مجبر یا اخیر طبقہ جب اپنی حالت پر تقدیر کے حوالے سے قانع ہو جاتا ہے تو اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ اس نے اقتصادی استحصال کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا ہے۔ مارکس نے مجبور طبقے کی اس ملط اندیشی کو باطل شعور false consciousness سے موسوم کیا ہے ۔ آجر طبقے کی آئیڈیولوجی کو استوار کرنے اور قائم رکھنے میں جو تہذیبی اوضاع کام آتے ہیں ان میں ایک تخیلی فن بھی ہے۔ ایک لحاظ سے فن اور ادب مقتدر طبقہ ہی کی آئیڈیولوجی کو سماج میں پھیلاتے ہیں۔ اس طرح ادبی متون جن روایات واقدار کو معیار کے طور پر اخذ کرتے ہیں وہ اصلاً آجر طبقے ہی کی روایات و اقدار ہوتی ہیں۔ مارکسی تنقید متن میں کارفرما ان آئیڈیولوجیوں کی نشاندہی کرتی اور اس تحت المتن کو اجاگر کرتی ہے جو بوجوہ دیا چھپارہ گیا تھا۔
ادب اور تہذیب کو ان کے عہد کی اقتصادی صورت حالات کی روشنی میں سمجھنے کے معنی سماجی اقتصادی صورت حال اور تہذیبی و جمالیاتی کارناموں کی نوعیت کے مابین ایک قطعی تعلق باہمی کو سمجھنے کے ہیں۔ اس طرح مارکسیوں کے نزدیک ادب و فن کو آئیڈیولوجی ، طبقہ اور اقتصادی ذیلی ساخت کے تناظر ہی میں پورے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔
جو روایتی مفکرین اور نقاد مارکسی نظریات کو اصلاً مارکسی فکر کے ڈھانچے ہی میں سمجھنے اور سمجھانے کی طرف راغب رہے اور جنہوں نے بڑی قطعیت کے ساتھ ان کے اطلاق کی مساعی کیں ان میں لیون ٹراٹسکی ، لینن، جیورج پلیخوف اور کرسٹوفر کا ڈویل کے نام اہم ہیں۔ اینٹوگرامچی، جیورج لوکاچ، ارنسٹ فشر اور واز کیز نے مارکس کے ان تصورات کا تجزیہ نئی توضیحات اور نئی تعبیرات کے ساتھ کیا جن کا تعلق تاریخ ، سماج اور اقتصادی متعلقات سے تھا۔ انہوں نے ادب وفن پر اطلاق میں تھوڑی بہت گنجائشوں کے لیے بھی راہ نکالنے کی کوشش کی۔ لوشین گولڈ مین، لوئی اس تھیم سے ، پیرے ما شیرے، ای پی تھا مپسن ، ریمنڈ ولیمز ، فریڈرک جیمسن ، میری این گلشن اور والٹر بین جمن وغیرہ کے دور تک پہنچتے پہنچتے عالی سیاسی، اقتصادی، تہذیبی اور،۔۔۔
