Skip to product information
1 of 1

بھل گیا اپنا گھر | سید نصیر شاہ | Bhul Gya Apna Ghr | Syed Nasir Shah

بھل گیا اپنا گھر | سید نصیر شاہ | Bhul Gya Apna Ghr | Syed Nasir Shah

Regular price Rs.900.00 PKR
Regular price Rs.900.00 PKR Sale price Rs.900.00 PKR
Sale Sold out
Shipping calculated at checkout.
Quantity

سید نصیر شاہ کی پیدائش

میانوالی سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر، استاذ، محقق، اعلی پائے کے نثر نگار اور گراں مایہ کتب کے خالق جناب سید نصیر شاہ 10 جون 1932 کو پیدا ہوئے.

سید نصیر شاہ نے اسلام اور جنسیات، چند شامیں فکر اقبال کے ساتھ اور اس جیسی اعلی سطحی تحقیقی کتابیں تخلیق کیں۔ کئی شعرا کے استاذ تھے۔ فارسی، عربی اور اردو زبانوں پر غیر معمولی دسترس حاصل تھی۔کونین فروش کے قلمی نام سے مزاحیہ کالم لکھے... ان کے کالم کا مستقل نام”کڑوے گھونٹ“ تھا.....

سید نصیر شاہ بیک وقت ایک کامیاب استاد, باشعور سیاسی کارکن,حق گو وہ بے باک صحافی,منفرد تاریخ نگار و تنقید نگار, اعلیٰ پائے کے شاعر اور نثر نگار, بہترین افسانہ نگار‘ سچے اور کھرے محقق اور انسان دوست رویوں کے حامل شخص تھے.آپ کا انتقال 20 دسمبر 2012 کو میانوالی میں ہوا ۔ انہیں ان کے آبائی شہر میانوالی میں سپرد خاک کیا گیا۔

سید نصیر شاہ صاحب ایک جامع حیثیات شخص تھے۔

وہ ایک مذہبی سکالر بھی تھے۔کسی زمانے میں انہوں نے مذہب کے بہت سے موضوعات پر کتابیں بھی لکھیں۔

انہوں نے بعد میں زندگی کو ترقی پسند حوالوں سے سمجھنا شروع کیا اور مارکسزم اور لینزم کو صرف سمجھا ہی نہیں ترقی پسند پارٹیوں سے وابستہ ہو کر بے انتہا فیلڈ ورک بھی کیا۔ سیاسی میدان میں خوب سر گرم رہے۔انہوں نے مغربی اور مشرقی ادب کا بھی بھرپور مطالعہ کیا ادب کی تمام اصناف پر کام کیا۔ تاریخ اور تاریخی تحقیق بھی ان کا ایک بڑا حوالہ ہے۔تاریخ سے میری مراد تاریخ کے تمام شعبے ہیں انہوں نے دنیا بھر کے فلسفے کو بھی چھانا ہے اور اس کا محاکمہ بھی کیا ہے۔اسی سبب شاعری کے متعلق ان کا رویہ ذرا سا غیر مناسب ہوتا گیا ۔وہ شاعری کو فضائل ، علم میں کم تر اور آخری درجے کی فضلیت سمجھنے لگے۔اس لئے انہوں شعوری طور پر شاعری کو نہیں اپنایا مگر شاعری انہیں اپناتی چلی گئی۔انہوں نے بہت شاعری کی مگر بہت سی شاعری ’’دوستوں کی نذر ہو گئی۔

؎؎؎؎؎؎

جو بھی تخت پہ آ کر بیٹھا اس کو یزدان مان لیا

آپ بہت ہی دیدہ ور تھے موسم کو پہچان لیا

جب بھی تھکن نے کاٹ کے پھینکا دشت گزیدہ قدموں کو

جلتی ریت پہ کھال بچھائی دھوپ کا خیمہ تان لیا

اپنی انا کا باغی دریا وصل سے کیا سرشار ہوا

اس کا نشاں بھی ہاتھ نہ آیا سارا سمندر چھان لیا

قسمت کے بازار سے بس اک چیز ہی تو لے سکتے تھے

تم نے تاج اٹھایا میں نے غالب کا دیوان لیا

ذات صفات سے عاری ہو تو کیسا تعاون خارج کا

آنکھ تو تھی نابینا ، ناحق سورج کا احسان لیا

؎؎؎؎؎؎

ہم اندھیروں میں اجالوں کے سفیروں کی طرح

کچھ حوالوں کی طرح چند نظیروں کی طرح

وہ جو ڈوبے تھے مرے سوچ سمندر میں کہیں

اب ابھر آئے ہیں بے چاپ جزیروں کی طرح

بندگی میں بھی ہیں اندازِ خدائی موجود

زندگی کون کرے ہم سے فقیروں کی طرح

یوں ہوا جیسے ہو سسکی کوئی سناٹے میں

چاند آتا ہے نظر شب کے اسیروں کی طرح

جسم ہے بستر ِ اطلس پہ مگر ذہن ترا

پارہ پارہ مرے ملبوس کی لیروں کی طرح

تیرا گاؤں میرا قرطاسِ مقدر ہی نہ ہو

تیری گلیاں مرے ہاتھوں کی لکیروں کی طرح

 

View full details