Lawrence Say Matahari Tak لارنس سے ماتاھری تک
Lawrence Say Matahari Tak لارنس سے ماتاھری تک
Couldn't load pickup availability
Low stock: 5 left
"لارنس آف عریبیہ سے ماتا ہری تک" (دنیا کے مشہور جاسوس)
جنگ کے الاؤ بھڑک کر مسلمانوں کے خرمنِ امن جلانے لگے۔ پھر جب یہ مانند پڑنے پر
آئے تو اس کی زہر الودہ چنگاریاں دولت عثمانیہ کی سمٹتی سکڑتی سرحدوں میں آگ برسانے لگیں۔ ایسے میں ایک شیطان صفت خبیث فرنگی عربوں کو ترک سے لڑانے اور خلافت عثمانیہ کو تباہ کرنے میں مصروف رہا وہ لارنس اف عریبیہ تھا، اس خبیث فرنگی نے عربوں کو بڑے بڑے سبز باغ دکھائے اور بڑھ چڑھ کر وعدے کیے اور خلافت عثمانیہ کو تباہ و برباد کرکے دم لیا، وہ عربوں سے بڑھ کر عرب ہو گیا اور سادہ لوح بادیہ نشینوں پر جان چھڑکنے لگا وہ برطانوی شعبہ سراغرسائی کا باقاعدہ ملازم تھا اور جاسوس افسر کے طور پر شریف مکہ کے بیٹے امیر فیصل سے منسلک تھا تاکہ وہ بغاوت کا رخ اس طور متعین کرے کہ اس کا انجام برطانیہ کے حق میں ہو۔ اس نے یہودیوں کی فلسطین میں آمد کو پرامن بنایا۔ فلسطین میں برطانیہ کی یہودی جاسوسہ سائرہ ہارون سان نے لارن سے رابطہ بڑھا لیا اور اس ہی کی زیر ہدایت وہ عربوں میں گھل مل گئی۔
اس کتاب میں لارنس اف عریبیہ سمیت سینتیس عالمی جاسوسوں اور چار جاسوسی اداروں پر بات کی گئی ہے جو پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار رہے اور ملکوں کے جغرافیے بدل دیے- انہی کی کوشش سے ترک کی 615 سالوں پر محیط عظیم شان سلطنت کا خاتمہ ہوا ۔یہ کتاب رحمان مذنب کے مخصوص اور دلکش سٹائل اور دلآویز پیرائے کا نہایت ہی اعلٰےنمونہ ہے۔” جاسوسی کے تیور”ذیلی عنوان ہیں ۔یہ بیسویں صدی کے اَن خطر آشنا خطرناک اور چالاک مردوں اور عورتوں کی کہانیاں ہیں جنہوں نے دنیا کو زیر و زبر کیا۔
PAGES: 377
