Skip to product information
1 of 3

Inqalabat Ka Mustaqbil انقلاب کا مستقبل پروفیسر ظفر علی خان

Inqalabat Ka Mustaqbil انقلاب کا مستقبل پروفیسر ظفر علی خان

Regular price Rs.700.00 PKR
Regular price Rs.1,000.00 PKR Sale price Rs.700.00 PKR
Sale Sold out
Shipping calculated at checkout.
Quantity

Out of stock

پیش لفظ

زیر نظر کتاب انقلابات کا مستقبل عالمگیریت کے دور میں انقلابی تبدیلی کے بارے میں نظر ثانی کی تالیف کیلیفورنیا یونیورسٹی میں سماجیات کے پروفیسر جو ہن فوران نے کی ہے۔ کتاب میں دیئے گئے مقالے پانچ حصوں میں منقسم ہیں ۔ ہر حصے کا ایک عمومی موضوع ہے تعارف کے بعد کے پہلے حصے کا موضوع "انقلاب اور عالمگیریت کی اصطلاحات کی تشریح ہے۔ دوسرا " عالمگیریت کی روشنی میں انقلاب پر نظر ثانی ، تیسرا مستقبل کی زبانیں اور حکمت عملیاں چوتھا افغانستان سے زپاسٹا تک اور پانچواں کیا مستقبل بہتر ہوگا؟“ ہے۔ دوسرے تیسرے اور پانچویں حصے کے آخر میں موضوعاتی بحثوں پر مشتمل باب ہیں جن میں کتاب کے شرکاء کے باہمی مباحث رقم کیے گئے ہیں ۔ ہر حصے میں عمومی موضوع کے مطابق متفرق ذیلی موضوعات پر مقالے دیئے گئے ہیں جو چار سے تین تک ہیں۔ آخر میں یوٹو پیائی حقیقت پسندی“ کے عنوان کے تحت فریڈ ہیلیڈے کا کتاب پر تبصرہ دیا گیا ہے۔ جو ہن فوران کے تعارف آخری تبصراتی مضمون اور تین عمومی موضوعاتی مباحث کے علاوہ اٹھارہ مضامین ہیں۔ ہر مضمون عمومی موضوع کے تحت ذیلی موضوع پر لکھا گیا ہے ۔ ہر مضمون مختلف اور متفرق زاویہ ہائے نظر کا اظہار ہے۔ تمام مصنفین اعلیٰ پائے کے دانشور اور محقق ہیں۔ تدریس، تصنیف و تحقیق ان کا طرہ امتیاز ہے۔ ان میں ماہرین علوم سماجیات بشریات نسوانیات سیاسیات بین الاقوامی تعلقات سیاسی معیشت تاریخ و فلسفہ شامل ہیں۔

سنجیدہ مطالعے کی غرض سے میں نے کتاب کے نوٹس بنائے ۔ پھر سوچا کہ شائد کچھ لوگوں کے لیے ان کا ترجمہ دلچسپی کا باعث ہو اس لیے ان کا اردو ترجمہ کر دیا۔ اس دوہرے عمل سے جہاں کتاب مختصر اور اردو قاری کے لیے دستیاب ہو گئی وہاں تلخیص اور ترجمے کی فطری کمیوں کے ساتھ میری کم فہمی اور زبان نہ دانی کی خامیاں اس میں در آئیں ۔ بقول فیض صاحب" ترجمے کے لیے دو میں سے ایک زبان پر تو عبور ہونا چاہیے ۔ اور اگر دونوں پر عبور نہ ہو تو نتیجہ ظاہر ہے۔

لیکن سنجیدہ اردو قاری جو انقلابات کے مستقبل میں یا انقلابی سماجی تبدیلی کے امکانات میں دلچسپی رکھتا ہے اس کے لالے یہ کوشش شاید کار آمد ہو کہ بایاں باز و فکری انتشار کا شکار ہے اپنی سمت کھو بیٹھا ہے۔ سوویت روس کا انہدام چین میں منظم پسپائی دیگر سوشلسٹ ممالک میں منڈی کی معیشتوں کا غلبہ نیولبرل ازم کے تحت ضابطوں کا ٹوٹنا قومی ریاستوں کا کثیر القومی کارپوریشنوں کے آگے کمزور پڑنا ۔ سرمائے کی بلا روک ۔ آمد و رفت معلوماتی انقلاب جینیاتی پیش رفتیں، نیوٹیکنا لوجی روبوٹیکس. الغرض جو تھا نہیں ہے جو ہے نہ ہوگا“ کے مصداق عالمی منظر نامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔

بیسویں صدی انقلابوں کی کلاسیکی صدی تھی۔ عالمگیریت کے بعد آج کے سوالات ہیں ۔ کیا انقلابوں کا دور ختم ہو گیا ہے؟ اگر ایسا ہے تو کیوں؟ اگر نہیں تو مستقبل کے انقلابات کیسے ہوں گے؟ یہ کتاب ان سوالوں کے جواب کی کوشش ہے۔

View full details