نیا غذائی انقلاب New Diet Revolution Dr Atkins
نیا غذائی انقلاب New Diet Revolution Dr Atkins
Couldn't load pickup availability
Out of stock
پیش لفظ
یہ اس کتاب کا تازہ ترین ایڈیشن ہے جو میں نے آج سے دس سال قبل ان لوگوں کی مدد کے لیے لکھی تھی جو اپنا وزن کم کرنا اور پھر اس کمی کو ہمیشہ کے لیے برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ جب میں نے یہ کتاب لکھی تھی اس وقت سے لے کر آج کے دن تک میرا یہ پختہ یقین رہا ہے کہ ہمارے ملک میں موٹاپے کے مرض نے جو ایک وبائی صورت اختیار کر رکھی ہے اس کی اصل وجہ متوازن اور صحت مند غذا کے بارے میں وسیع پیمانے پر پھیلائی گئی غلط فہمیاں اور ناقص معلومات ہیں۔
اس کتاب کو عام توقعات سے بڑھ کر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ اب تک اس کی فروخت دس ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔ فروخت کا یہ ریکارڈ پچھلے پانچ سالوں میں امریکہ میں صحت اور غذا کے بارے میں لکھی گئی کتابوں کے مقابلے میں بلند ترین ہے۔ حقیقت میں فروخت کے لحاظ سے یہ کتاب ہمیشہ سے اپنے میدان میں ٹاپ پر رہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ان لاکھوں افراد میں سے جو اسے پڑھ چکے ہیں ایک کثیر تعداد نے نہ صرف اس کی ہدایات پر عمل کر کے اپنے وزن میں ایک مستقل کمی حاصل کی ہے بلکہ وہ اب صحت مند زندگیاں گزار رہے ہیں۔
لیکن جو ایک اہم بات اب سامنے آئی ہے وہ طبی میدان میں غذا کے بارے نظریے کی واضح تبدیلی ہے۔ اب انہو ڈائٹ ریولیوشن اپنی سویں سالگرہ ایک ایسے ماحول میں منا رہا ہے جو کہ کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذاؤں کے لیے زیادہ سازگار ہے۔ طبی ماہرین کی آراء میں اب ان سائینٹفک شہادتوں کی جھلک نظر آنے لگی ہے جو کنٹرولڈ کاربوہائیڈریٹس غذائی فہم کی حمایت کرتی ہے۔
جب میں نے پہلی مرتبہ یہ کتاب لکھی تھی، اس وقت صحت سے متعلق ملک کی بڑی اور اہم تنظیمیں درست معلومات کے فقدان کی وجہ سے چکنائی سے بے جا طور پر خوفزدہ تھیں اور عوام بھی دل و جان سے یہ تسلیم کرتے تھے کہ کم چکنائی والی غذائیں زیادہ صحت بخش ہوتی ہیں۔
عام لوگ صبح کے ناشتے میں میٹھا دلیہ اور کھانوں میں روٹی، پاسٹا اور بن وغیرہ کو صحت بخش غذا تصور کرتے تھے کیونکہ اس پر امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن نے بھی اپنی مہر تصدیق ثبت کر رکھی تھی۔ لوگوں کے دلوں میں گوشت (بڑا اور چھوٹا) کے لیے ایک خوف جاگزیں تھا۔ کم چکنائی کے خبط نے جو کہ دو دہائیوں تک امریکنوں کے سر پر سوار رہا امریکی غذاؤں سے چکنائی کی مقدار کو بہت کم کر دیا تھا، لیکن ساتھ ہی کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذاؤں کے بے تحاشا استعمال نے رواج پا لیا۔ کم چکنائی سے پرہیز کے نتیجے میں لوگ سبزیوں کا زیادہ استعمال کرنے کے بجائے ریفائینڈ کاربوہائیڈریٹس، چینی اور میدے کا استعمال زیادہ کرنے لگے اور اس قسم کی " جنک فوڈز امریکن غذاؤں کا ایک بڑا حصہ بنتی چلی گئیں۔
مجھے امید ہے کہ آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ اگر آپ موٹاپے کا شکار تھکے ماندے اور بیمار افراد کی قوم تیار کرنا چاہتے ہیں تو یہ ایک مکمل غذائی منصوبہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ہر سال کے اعداد و شمار اس بات کے غماض تھے کہ موٹاپے کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر خوفناک پہلو یہ تھا کہ پوری دنیا میں ذیا بیٹس کے مریضوں کی شرح میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس کتاب میں میں آپ کو واضح طور پر بتاؤں گا کہ موٹاپے کا دوسرا رخ زیا بیطیس کا مرض ہے۔
موٹا ہے اور ذیا بیطس کی دونوں وبائیں واضح طور پر اس کم چکنائی اور زیادہ کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذاؤں کا نتیجہ تھیں جس کا سبق عوام کو مسلسل پڑھایا جا رہا تھا۔ اسی طبقے نے جو کم چکنائی والی غذاؤں کا چمپین بنا ہوا تھا، کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذاؤں کو انتہائی مضر قرار دے رکھا تھا جو کہ دراصل ان دونوں وباؤں کا اصل حل تھا۔
Pages 360
