مشرقی شعریات اور اردو تنقید کا ارتقا | تنقیدکی جمالیات | Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah
مشرقی شعریات اور اردو تنقید کا ارتقا | تنقیدکی جمالیات | Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah
Couldn't load pickup availability
50 in stock
تنقید کی جمالیات سیریز کی یہ تیسری جلد ہے۔ پہلے اس کا نام اردو تنقید کا ارتقاء تجویز کیا تھا لیکن مشرقی شعریات کے ذیل میں سنسکرت شعریات جیسے وسیع الذیل موضوع کو شامل کیے برای کے ذیل میں کیا اسلامی بات ہے مکمل قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک بغیر مشرقی شعریات کا کوئی خاکہ مرتب کیا جا سکتا ہے اور نہ اسے مکمل قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک بغیر مشرقی کا کوئی خاکہ مرتب ام دی ال یا ان کی نہیں کیا ہے۔ الگ بحث ہے کہ ہم نے اس سے کتنا کچھ اخذ کیا ہے یا کچھ اخذ ہی نہیں کیا ہے۔ سنسکرت نہ شعریات کسی نہ کسی صورت میں آج بھی ہمارے مباحث کا ایک سرگرم موضوع ہے۔ ان سوالات پر بھی بحث کی کافی گنجائش ہے کہ لسانی اور فلسفیانہ تصورات کا وہ کس حد تک ساتھ دے سکتی ہے اور کسی حد تک وہ متصادم اور برمحل ہے۔ سنسکرت ادب اور سنسکرت نظام فن کی وسعتیں بے کنار ہیں ۔ اس کی ثروت مندی اس کی نزاکتوں اور لطافتوں اس کی گہرائی اور گیرائی کا مقابلہ دوسری کوئی زبان مشکل ہی سے کر سکتی ہے۔ ہندی تنقید سنسکرت شعریات کو حوالہ ضرور بناتی ہے اور اکثر مغربی تنقید سے تقابل بھی کرتی ہے، لیکن ہندی شعر و ادب پر اطلاق کرنے سے عموماً بے پرواہ نظر آتی ہے۔ مغرب میں جب بھی کسی نئی بحث کا آغاز ہوتا ہے تو ہم یہ محسوس کرتے ہیں جیسے سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا ہے۔ دیکھتے دیکھتے ہم اپنے لیے ماضی کی چیز بن گئے ہیں۔ ہمارے دماغوں پر یہ نئے مباحث اتنی تیزی سے حاوی ہو جاتے ہیں اور ان میں اتنی چکا چوند ہوتی ہے کہ ہمیں کچھ بھائی نہیں دیتا، پھر ایک سنبھالا لینے کے بعد ہم اپنے سراغ میں نکلتے ہیں ۔ اپنے ماضی کے گم کردہ اور فراموش کردہ تہذیبی اثاثے سے ان آلات کو ڈھونڈ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں جن کے بل پر ہم یہ دعوی کر سکیں کہ ہم اتنے دیوالیے نہیں ہیں۔ آج جسے نیا اور بہت نیا کہا جا رہا ہے وہ تو بہت پرانا ہے۔ ہمارے علماء اور ہمارے پنڈت تو یہ سب بہت پہلے بکھان کر چکے ہیں ۔ اردو تنقید ہی نہیں ہندی تنقید بھی یہی کرتی آئی ہے۔ عمیق حنفی نے بھی ایک جگہ اس صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے: جدید ترین ہندی شاعری جدت اور آفاقیت کے خبط میں ہندوستان کی بہت سی ثقافتی قدروں اور روایتوں سے دست بردار ہوتی جارہی ہے۔ یہ شاعر رس، دھون ، النکار، ریت و کردت کے سدھانتوں کو بھی فرسودہ قرار دے کر خیال اور عصری آگہی کے راست، سادہ اور غیر مبہم ادائیگی پر سارا زور دیتے ہیں ۔“
سنسکرت زبان میں فکر انگیزی اور تخلیقیت کی جو غیر معمولی قوت تھی اور اس نے لسانیاتی، فلسفیانہ اور تخلیقی کارناموں کا جو ایک جنگل سا کھڑا کر دیا تھا، اس کے اسباب بھی زبان کی قوتوں کی پرورش کے عمل میں پنہاں ہیں اس کتے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اردو زبان میں ادب تخلیق کرنے کا عمل قدرے مشکل ہے کیونکہ ہم نے ابھی تک اپنی لسانی تہذیبی روایت کو برقرار رکھا ہے۔ ہندی نے عمل سنسکرت جمالیات کے بجائے علاقائی بولیوں اور اس کے ادب سے اپنے رشتے مضبوط کیے اس سے اُسے یقیناً بہت فائدہ پہنچا اور اس معنی میں نقصان بھی اٹھانا پڑا کہ سنسکرت کے سرچشموں کی طرف سے بے اعتنائی کو وطیرہ بنالیا گیا جس کے باعث ایک عمومی قسم کی سہل پسندی راہ پاگئی اب جس سے چھٹکارا پانا اتنا آسان نہیں ہے۔
فارسی نظام اردو نظام شعریات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی جڑیں عربی اور فارسی نظام بلاغت میں پیوست ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تاریخی اور قدرے situational ہے۔ اردو کے ابتدائی نشو و نما کے زمانوں ہی میں نہیں بلکہ بہت پہلے سے سنسکرت سمٹ کر ایک خاص اشرافیہ طبقے تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ سنسکرت ادب اور سنسکرت شعریات کے تراجم کی طرف بھی توجہ نہیں دی گئی جو اردو شعریات کی تشکیل میں ایک اہم کردار ادا کرسکتی تھی۔ ابتدا میں اردو کی طرف جو نسلیں رجوع ہوئیں وہ فارسی زبان میں دست گاہ رکھتی تھیں ۔ اس لیے ان کی شاعری میں بڑی سرعت اور آسانی کے ساتھ فارسی لفظیات اور فارسی اسالیب شعر رچ بس گئے اور آگے چل کر اردو شاعری کا لاشعور بنے میں انھیں دیر نہیں لگی۔ تاہم ہندوستانی متصوفانہ فکر، ہندوستانی اساطیری نظام، ہندوستانی موسموں اور عناصر فطرت کا پورا ایک پس منظر ہے جو اردو شعر و ادب کی مجموعی شناخت کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ اردو نے عرب و ایران سے لے کر وسط ایشیا تک سے جو لسانی اور فکری سانچے اخذ کیے تھے ان کے پہلو بہ پہلو مسکرت شعریات سے وہ اور زیادہ مالا مال ہو سکتی تھی۔ لیکن یہ ممکن نہ ہو سکا۔ یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیا اپنی بھی کوئی شعریات ہے جسے ہم اردو شعریات کا نام دے،۔۔
