فرہنگ تلفظ کا تحقیقی و لسانی جائزہ Muhammad Umar Khan Farhang Talfuz Ka Tehqiqi Jaiza
فرہنگ تلفظ کا تحقیقی و لسانی جائزہ Muhammad Umar Khan Farhang Talfuz Ka Tehqiqi Jaiza
Couldn't load pickup availability
100 in stock
فرہنگِ تلفظ کا تحقیقی و لسانی جائزہ:
اردو لغت نویسی میں تنقیدی شعور کی بازیافت اور لسانی معیارات کا تحفظ
تحریر: شیخ عبدالرشید
اردو زبان کے لسانی تشخص، صوتیاتی نظم اور تہذیبی ارتقاء میں لغت نویسی کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ کسی بھی زندہ زبان کی علمی بقا کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس کے لغوی اور صوتی اصول کس قدر مستند اور سائنسی بنیادوں پر استوار ہیں۔ اس تناظر میں شان الحق حقی کی مرتب کردہ "فرہنگِ تلفظ" ایک ایسی دستاویز ہے جسے اردو کی مستند لغت نویسی میں ایک سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ حقی صاحب نے بائیس جلدوں پر مشتمل "اردو لغت (تاریخی اصول پر)" کے صوتی نظام اور علامات میں موجود اسقام کو دور کرتے ہوئے ایک جدید، مربوط اور عملی صوتی ابجد پیش کی، جو اپنے عہد کی ایک بڑی لسانی دریافت تھی۔ تاہم، زبان کی تدوین ایک مسلسل عمل ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ تجدید اور تنقیدی بصیرت کی ضرورت برقرار رہتی ہے۔ مشہور ماہرِ لسانیات ڈینیل جونز (Daniel Jones) نے بجا طور پر کہا تھا کہ "لغت زبان کے معیار کی محافظ اور صوتیات اس کی روح ہے"۔ اسی علمی تقاضے کے تحت گورنمنٹ کالج ساہیوال کے شعبہْ اردو کے سابق پروفیسر محمد عمر خاں کی کتاب "فرہنگِ تلفظ کا تحقیقی و لسانی جائزہ"، جسے فکشن ہاؤس لاہور نے شائع کیا ہے، اردو لغت نویسی کی تاریخ میں ایک وقیع باب کا اضافہ ہی نہیں بلکہ گورنمنٹ کالج منٹگمری/ ساہیوال کے ماضی کی علمی و ادبی وجاہت کی نشاة ثانیہ کی طرف اہم قدم بھی ہے۔
یہ کتاب محض ایک فرہنگ پر تبصرہ نہیں بلکہ اردو کے لغوی و لسانی معیار کو پرکھنے کا ایک معروضی اور کڑا علمی ذریعہ ہے۔ اس علمی کاوش پر کتاب کے سرورق (بیک فلیپ) پر حافظ صفوان محمد نے انتہائی بصیرت افروز رائے کا اظہار کیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ کتاب اس بات کی غماز ہے کہ رانا محمد عمر خاں نے یہ کام کرنے میں اپنی آنکھوں کا بہت تیل نکالا ہے۔ جناب حقی اسے دیکھتے تو انھیں اپنا فرہنگِ تلفظ کا کھویا ہوا نسخہ مجسم صورت میں دیکھ کر بے حساب خوشی ہوتی۔ پروفیسر رفیق ظہیر صاحب نے اِس کتاب پر عالمانہ مقدمہ لکھا ہے اور اِس کاوش کی بھرپور تحسین کرتے ہوئے اس کام کی بنیاد گزاری کی مختلف سطحوں سے قاری کو روشناس کرایا ہے۔
بلاشبہ پروفیسر محمد عمر خان نے "فرہنگِ تلفظ" کے پیچیدہ لسانی مباحث کو جس طرح سائنسی اور تحقیقی بنیادوں پر پرکھا ہے، وہ لغت نویسی کی تاریخ میں ایک مستند حوالے کی حیثیت رکھتا ہے۔ حقی صاحب کی "فرہنگِ تلفظ" کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ انہوں نے اردو کے صوتیاتی ڈھانچے کو سائنسی اصولوں پر استوار کرنے کے لیے انتھک محنت کی۔ تاہم، اس علمی سفر میں پہلا ایڈیشن چھپنے کے بعد، حقی صاحب کی اپنی اصلاحات اور پروف کی اغلاط کی درستیاں کاتب پورے طور پر نہ لگا سکا۔ اس تشنہ رفو کام نے اردو لغت نویسی کے معیار کو ایک طویل عرصے تک ایک خلائی کیفیت میں مبتلا رکھا، جس سے زبان کے صوتیاتی مزاج کو جزوی نقصان پہنچا۔ چنانچہ اس علمی خلا کو پر کرنے کے لیے پروفیسر رانا محمد عمر خاں نے جس وسعتِ قلبی اور باریک بینی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ داد ہے۔ رانا صاحب محض ایک محقق نہیں بلکہ لغت نویسی کے نباض ہیں۔ ان کی تحقیقی کاوش اور علمی بصیرت کا اعتراف ڈاکٹر شمس الرحمٰن فاروقی کے "لغاتِ روزمرہ" کے محاکمے سے پہلے ہی ہوچکا تھا۔ "فرہنگِ تلفظ کا تحقیقی و لسانی جائزہ" میں انہوں نے حقی صاحب کی فرہنگ کے مختلف ایڈیشنز، خاص طور پر 1995ء سے 2022ء تک کے اشاعتی سفر کا تقابلی مطالعہ پیش کیا ہے۔ جدید لغت نویسی کے اصولوں کے مطابق، جیسا کہ سیموئیل جانسن (Samuel Johnson) نے کہا تھا کہ "لغات کا مقصد زبان کی اصلاح اور اس کی درستگی ہے"، رانا صاحب کی یہ کاوش اسی زریں اصول کی عملی تعبیر ہے۔ لغت نویسی محض ایک ادبی ذوق نہیں بلکہ ایک انتہائی دقیق اور تکنیکی عمل ہے؛ ہمارے لغت نگاروں نے اس دور میں جب جدید صوتی آلات اور سافٹ ویئرز کا وجود نہ تھا، اپنے محدود وسائل کے ساتھ جو جانفشانی کی، وہ آج کے ڈیجیٹل دور کے محققین کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ یہ تکنیکی مہارت کا فقدان ہی تھا جس نے کئی مقامات پر لغت کو اسقام سے دوچار کیا۔
کتاب کا ایک اہم تنقیدی پہلو 2002ء کے ایڈیشن کے جائزے میں سامنے آتا ہے، جہاں مصنف نے سید رضوان علی ندوی کے اعتراضات کے تناظر میں 'کنج'، 'اباق'، 'املاص'، 'پکٹ'، اور 'تخبیر' جیسے الفاظ کے اعراب اور معانی پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ رانا صاحب نے نشاندہی کی ہے کہ لغت نگاروں نے اکثر مقامات پر تاریخی اصولوں کے بجائے سرسری رویہ اپنایا۔ مثال کے طور پر، ارسطاطالیس کی پیدائش و وفات کے سنین کے اندراج میں جو تضاد پایا جاتا ہے، وہ انگریزی اور اردو کے رسم الخط کے دائیں اور بائیں جانب سے لکھنے کے اصولوں کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہے۔ مصنف نے ثابت کیا ہے کہ قبل مسیح کی تاریخوں کو درج کرنے کا مروجہ طریقہ کار اردو لغت نویسی میں علمی غلطیوں کا باعث بنا ہے، جسے فوری اصلاح کی ضرورت ہے۔
مبصرین کی فکر اس مقام پر رانا عمرصاحب کے کام سے ہم آہنگ نظر آتی ہے، جہاں وہ کہتے ہیں کہ "لسانی تحقیق میں معروضی مطالعہ ہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں حقیقت تک لے جاتا ہے"۔ محمد عمر صاحب نے 2017ء کے نستعلیق ایڈیشن میں صوتی علامات، جیسے فتحہ، کسرہ اور ضمہ کے فقدان کو زبان کے صوتی حسن کے لیے ایک بڑی کمی قرار دیا ہے۔ وہ صرف غلطیوں کی نشان دہی نہیں کرتے بلکہ ان کی تاریخی اور لسانی جڑیں بھی تلاش کرتے ہیں۔ سید رضوان علی ندوی اور حقی صاحب کے درمیان ہونے والی علمی بحث کا جو تقابلی تجزیہ انہوں نے پیش کیا ہے، وہ اردو تحقیق میں مکالمے کی ایک صحت مند روایت کو فروغ دیتا ہے۔ نوم چومسکی (Noam Chomsky) کے مطابق، "زبان کی ساخت کا مطالعہ اس کے گہرے صوتی و نفسیاتی نظام سے وابستہ ہے"۔ رانا صاحب نے اسی اصول کے تحت حقی صاحب کی فرہنگ کی لسانی ساخت کو نئے سرے سے پرکھا ہے۔
یہ کتاب محض ایک تحقیقی کاوش نہیں، بلکہ یہ اردو لغت نویسی کے لیے ایک ایسا اصلاحی چارٹر ہے جو آنے والے محققین کے لیے رہنما اصول فراہم کرتی ہے۔ اردو کی بین الاقوامی حیثیت کا تقاضا ہے کہ ہماری لغات معیاری اور مستند ہوں۔ اگر ہم نے اپنی لغات کے صوتی نظام اور درستگی پر سمجھوتہ کیا، تو عالمی سطح پر تحقیق کرنے والے سکالرز ہماری زبان کے ذخیرہ الفاظ اور اس کی باریکیوں پر کیسے اعتماد کر سکیں گے؟ لہذا، عمر خاں صاحب کا کام اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ یہ اردو کے علمی تشخص کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے میں مددگار ہے۔ رانا صاحب نے اس کام کے ذریعے یہ واضح کر دیا ہے کہ لغت محض الفاظ کی فہرست نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک زندہ لسانی روایت کی امین ہوتی ہے۔ اس کام کے معیار اور اہمیت کا جائزہ لے کر بجا طور پر زور دے کر کہا جا سکتا ہے کہ ایسی تحقیقی کاوشوں کو نصابی اور تحقیقی سطح پر شامل کیا جائے تاکہ طلبہ لغت نویسی کے بنیادی تقاضوں سے واقف ہو سکیں۔
یہ تحقیقی سفر لسانیات کی تاریخ میں اپنا مقام خود متعین کرے گا، کیونکہ یہ کام جذباتی تسکین سے بالا تر ہو کر ٹھوس علمی بنیادوں پر کھڑا ہے۔ کتاب کا ہر صفحہ مصنف کی کڑی محنت، مطالعے کی وسعت اور لسانی باریک بینی کا آئینہ دار ہے۔ رانا محمد عمر خاں نے جس طرح اِس لغت کی تدوینی و لسانی غلطیوں کے ازالے کے لیے کی جانے والی کوششوں کا احاطہ کیا ہے، وہ نہ صرف تاریخ کا ایک اہم پہلو ہے بلکہ آنے والے محققین کے لیے ایک تنبیہہ بھی ہے کہ زبان کی تدوین میں ذرا سی غفلت کتنی بڑی قیمت ادا کر سکتی ہے۔ رانا صاحب کا یہ کام آنے والے ادوار میں اردو لسانیات کا ایک بنیادی اور ناگزیر حوالہ ثابت ہوگا۔ یہ تحریر بلاشبہ اردو کے اس علمی تشخص کو زندہ رکھنے کی کوشش ہے جو ہماری تہذیب کی پہچان ہے۔ آخر میں، اس بات کا اعتراف ضروری ہے کہ ایسی سنجیدہ علمی اور لسانی کاوشیں ہی زبان کو مستحکم کرتی ہیں اور اسے ارتقا کی شاہراہ پر گامزن رکھتی ہیں۔ اگر ہم نے آج اپنی لغات کی اصلاح نہ کی تو کل کی نسلیں صوتی اور لغوی اعتبار سے ایک ایسے اندھیرے میں ہوں گی جہاں سے واپسی ممکن نہ ہوگی۔ لہٰذا رانا محمد عمر خاں کی یہ کاوش نہ صرف ایک علمی کارنامہ ہے بلکہ ایک قومی لسانی فریضہ بھی ہے جسے ہر اہلِ قلم کو پڑھنا اور سمجھنا چاہیے۔
