ضیا ابھی تک مرا نہیں ہے Zia Abhi Tak Mara Nahi Hai Dr Tahir Shabir
ضیا ابھی تک مرا نہیں ہے Zia Abhi Tak Mara Nahi Hai Dr Tahir Shabir
Couldn't load pickup availability
150 in stock
ڈاکٹر طاہر شبیر لاہور کے ادبی حلقوں میں اپنی خاص پہچان کے حامل ہیں۔ وہ انجمن ترقی پسند مصلحین لاہور کے فعال رکن ہیں۔ حرامتی ، سیاسی اور سماجی موضوعات پر لکھنے والے یہ اپنے عہد کے باخبر اور باشعور تخلیق کار ہیں۔ وہ شاعری کو محض حسن و عشق کے بیان تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے ظلم ، نا انصافی ، استحصال اور جبر کے خلاف آواز بناتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر شہیر سماج کے لیے ہوئے طبقات کے دکھ درد کو محسوس کرتے ہیں اور اس پر دوٹوک اپنا احتجاجی بیانیہ تشکیل دیتے ہیں۔
سیاسی شاعری میں وہ اقتدار کے غلط استعمال ، آمریت اور عوامی حقوق کی پامالی کو بے نقاب کرتے ہیں، جبکہ ماری شاعری میں غربت ، طبقاتی فرق، بے روزگاری، استحصال اور انسانی بے حسی جیسے مسائل کو اپنی شاعری کا موضوع بناتے ہیں۔ بطور مز امتی شاعران کا کلام قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور اس کے اندر سوال اٹھانے کی جمرات پیدا کرتا ہے۔ انہی اوصاف نے انہیں صرف ایک تخلیق کار نہیں بلکہ سماجی شعور بیدار کرنے والے ایک ذمہ دار فرد کے رتبے پر فائز کر دیا ہے جو قلم کو تبدیلی کا ذریعہ بناتا ہے۔ پاکستانی سماج میں وہ قلم سے وہی کام لے رہے میں جو اپنے عہد میں روسو، والٹیر ، ساحر لدھیانوی اور حبیب جالب جیسے شاعروں، ادیبوں نے لیا۔ ان کی شاعری کمان می گروه سیاسی وسماجی صورتوں کا پردہ چاک کرتی ہے۔
ڈاکٹر طاہر شبیر اس سماج کو انسانوں کے رہنے کے قابل بنانے کے متمنی ہیں۔ ایک ایسا سماج جس میں سب کی عزت کا معیار ایک ہو۔ میں ان کی سوچ ، فکر اور نظریاتی سچائی کا گرویدہ ہوں ۔ زندگی سے مکالمہ کرتی ہوئی ان کی شاعری عام آدمی ک دل ک آواز ہے اس کی خواہشوں اور ہنگو کی ترجمان ہے۔
عابد حسین عابد
جاگیں گے لوگ ان کے جسے میں وہ ساز ہوں
میں انقلاب وقت ہوں میں نعرہ باز ہوں
Buy this Bundle
