شونیہ Shoniya Mahjal Surinder Raz
شونیہ Shoniya Mahjal Surinder Raz
Couldn't load pickup availability
300 in stock
کبھی کبھی ایک کہانی صرف کہانی نہیں ہوتی۔ وہ ایک دروازہ ہوتی ہے، جو قاری کو اس کی اپنی ذات کے گہرے، ان دیکھے گوشوں تک لے جاتی ہے۔ شونیہ ایسا ہی ایک دروازہ ہے۔ یہ ناول محض ایک روایتی قصہ نہیں ، بلکہ ایک فکری، روحانی اور فلسفیانہ جستجو ہے۔ ایک ایسا شجر ہے جو کپل منی کی ساتھ یہ درشن سے شروع ہو کر اننت اور اویکتا کے عشق ، ہجر ، یوگ ، فلسفے کی گہرائیوں تک پھیلتا ہے۔
شونیہ یعنی کچھ نہ ہونا اس ناول کا مرکزی استعارہ ہے۔ مگر یہ عدم صرف ریاضیاتی صفر نہیں، بلکہ وہ روحانی مقام ہے جہاں شعور اپنی آخری حد کو چھو لیتا ہے، جہاں میں کا پردہ بنتا ہے اور سب کچھ ایک کچھ بھی نہیں میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ جب کپل منی کی تحقیق شونیہ کو جب اننت نے اپنی ریاضت سمادھی ذریعے دریافت گیا، تو یہی دریافت اس ناول کی بنیاد بنی۔
یہ ناول سترہ ابواب پر مشتمل ہے، اور ہر باب ایک الگ جہت، ایک نئی پرت ، اور ایک تازہ سوال کو جنم دیتا ہے۔ اننت کا کردار ایک عاشق بھی ہے، ایک فلسفی بھی، اور ایک یوگی بھی۔ او یکتا صرف محبوبہ نہیں، بلکہ ایک روحانی علامت ہے۔ وہ اننت کے موکش کی کنجی ہے، اور جو خود بھی ایک تپسیا سے گزرتی ہے۔ منی اکھنڈ، ایک خاموش رہنما کی صورت، اننت کو اس کے اندر کے تضاد سے روشناس کراتا ہے۔
ناول میں عشق کی بے قراری، ہجر کی اذیت، اور وصال کی روحانی کیفیت کو اس انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ قاری خود کو ان جذبات میں ڈوبا ہوا پاتا ہے۔ مگر یہ سب کچھ صرف جذباتی نہیں ہر منظر ، ہر مکالمہ ، ہر کیفیت ایک فلسفیانہ پس منظر رکھتی ہے۔ یہاں پر یوگ، کو نہایت سادہ مگر گہرے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
شونیہ میں سائنس اور دھرم کے درمیان مکالمہ بھی ہے، تضاد بھی، اور تکمیل بھی۔ انت جب ان دونوں کے بیچ ادراک کا راستہ چلتا ہے، تو وہ قاری کو دعوت دیتا ہے کہ وہ بھی اپنے اندر جھانکے ، اپنے شعور کی آواز سنے، اور خود کو جانے۔
یہ ناول صرف پڑھنے کے لیے نہیں، محسوس کرنے کے لیے ہے۔ یہ ایک ایسا جوس ہے، جیسا کہ مصنف خود کہتا ہیں کہ ، جو فلسفے، عشق، اور شعور کے پھلوں سے نچوڑا گیا ہے اور ادب کے قاری کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ اگر آپ نے کبھی سوچا ہے کہ میں کون ہوں؟ ، آتما کیا ہے ؟ پر ماتم اور ایشور میں کیا فرق ہے؟، یا محبت اور موہ میں کیا فرق ہے۔ تو یہ ناول آپ کو بہت سی الجھنوں سے آزاد کرتا ہے۔
سنیل گرڑو
