تنقیدکی جمالیات رجحانات و تحریکات | Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah
تنقیدکی جمالیات رجحانات و تحریکات | Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah
Couldn't load pickup availability
50 in stock
یہ ساتویں جلد ہے، جو آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اسے میں نے اپنے منصوبے کے تحت رجحانات و تحریکات تک محدود رکھا ہے۔ میں نے مصلحنا اور دانستہ ادبی کے سابقے سے گریز کیا کیونکہ بعض ایسی تحریکات اور رجحانات بھی ہیں جو اپنی اساس میں فلسفے یا کسی اور علم وفن سے متعلق ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تخلیقی ادب پر ان کے اثرات کی بنا پر وہ مشرف بہ ادب ہو گئے لیکن ان کے بنیادی فکر و افکار پر بحث ہماری مجبوری ہے۔ تنقید کی دنیا میں اکثر مباحث فلسفیانہ امور تعبیرات کی طرف مڑ جاتے ہیں۔ کبھی کبھی ادبی بحث خاصی فلسفیانہ شکل اختیار کر لیتی ہے۔ سقراط، افلاطون اور ارسطو کے علمی اور جمالیاتی نوعیت کے مباحث نے تو صدیوں یک ادب و تنقید کے بازار کو گرم رکھا۔ تجربیت Empricism، تشکیکیت Scepticism فطرتیت ،Materialism مادیت Agnosticism لاادریت Rationalism معقولیت واحدیت ،Idealism عینیت Marxism مارکسیت Realism حقیقیت Naturalism Determinism جبریت Absolutism قطعیت ، Dualism محویت Monism مظہریت Phenomenalism ، نائجیت Pragmatism وغیرہ تصورات اساسا فلسفیانہ ہیں اور یہ آپس میں متصادم بھی ہیں ۔ راست یا نار است ادب و تنقید نے ان سے اپنے فکری سانچے تشکیل دیے اور ادیبوں نے انھیں اپنے طرز احساس کا حصہ بھی بنایا۔ گویا ان فکری سانچوں کو محسوساتی سانچوں کا نام بھی دیا جاسکتا ہے۔ میرے لیے ان سب کو ایک ہی زمرے میں باندھنا بہت مشکل کام تھا۔ اس لیے اپنی اس جلد کا عنوان محض تحریکات و رجحانات رکھنے پر ہی اکتفا کیا۔
دوسری پریشانی، یعنی عملی دقت یہ تھی کہ اس منصوبے کے تحت آٹھویں جلد تصورات پر پنی ہے۔ ہم جنہیں ارجحان سے موسوم کرتے ہیں اس کی بنیاد اصلاً کی تصور یعنی Concept پری ہوتی ہے۔ جب کوئی تصور، ایک سے زیادہ تخلیقی فن کاروں کے یہاں عمومی شکل اختیار کر لیتا ہے تب ہم اسے رجحان سے تعبیر کرنے لگتے ہیں۔ ایسے کئی مصوری سے اخذ کردہ تصورات مثلا مع ،Montage مونتاژ ،Collage کولاژ ، Cubism مکعبی ، Impressionism تاثریت کاریت Assemblage ، وغیرہ کے اثرات استقبال پسندوں Futurists ، دادائیوں Dadaists ، ماورائے حقیقت پسندوں (سرریلسٹوں ) Surrealists کے یہاں واضح ہیں۔ جدیدیت کے تحت جو اسالیب وضع ہوئے اور جن تکنیکوں نے عمومیت اختیار کی ان کی پشت پر بھی کم و بیش یہی فنی رجحانات کام کر رہے تھے ۔ حتیٰ کہ عمارت سازی، نقاشی اور سنگ تراشی جیسے فنون میں جن میلانات نے نمو پائی جیسے بیقوارہ Barrocco ، اس کے اثرات پہلے مصوری کے فن پر قائیم ہوئے پھر لوئی ڈی گنگورا (1627-1561) (اسپینی ادیب) کے ایک مخصوص اسلوب کی تشکیل میں اس کا خاص کردار رہا۔ کنگورا ہی کے نام سے ادب میں گنگور بیت Gangorism کی اصطلاح رائج ہوئی اور ناپلی شاعر گیا ہے ٹٹامیر نو (1625-1569) کے یہاں میر نیت (Marinism) کا نام پایا۔ یہ تمام تصورات ایک نئے Mannarism کی جستجو سے عبارت تھے۔ موسیقی کے فن پر بھی یہ کسی نہ کسی طور پر اثر انداز ہوئے اور خود موسیقی کے فن میں جو تجربے عمل میں آتے رہے، ان کے اثر سے شاعری بھی نہ بچ سکی اور یہ بھی کہا گیا کہ شعر کی معراج موسیقی ہے۔
میرے لیے یہ طے کرنا مشکل تھا کہ کے رجحانات و تحریکات کے ضمن میں جگہ دی جائے اور کے محض تصورات کے ذیل میں رکھا جائے ۔ بعض رجحانات یا تصورات کو کسی دوسری جلد میں بھی جگہ دینی پڑی۔ مثال مغربی شعریات / تنقید کی تاریخ وار روایت میں ساختیات اور پس ساتقیات سے متعلق دانش وروں کو بھی شامل کرنا پڑا۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو اس جلد کوئی تنقید ( نیو کرسٹزم ) ہی پر ختم کرنا پڑتا۔ گویا پچاس ساٹھ برس پہلے جو ادبی اور لسانی تصورات کارفرما تھے۔ ان کے بعد تعطل ہی تعطل ہے۔ ساختیات و پس ساختیات کی بنیاد سازی میں فلسفیانہ منطق
