تنقیدکی جمالیات ادب تنقید کے مسائل | Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah
تنقیدکی جمالیات ادب تنقید کے مسائل | Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah
Couldn't load pickup availability
50 in stock
ادب و تنقید کے مسائل کی فہرست بے حد طویل ہے۔ اس میں سے انتخاب کرنا ایک دوسرا بہت بڑا مسئلہ تھا۔ بہت سے مباحث گزشتہ جلدوں میں پہلے سے شامل کیے جاچکے ہیں ۔ ادبی اور فنی تصورات بھی ایک لحاظ سے مسائل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تمام ادبی اور فنی تحریکات و رجحانات کیا ہیں اصلاً مسائل ہی ہیں۔ بلکہ ہر نئے تصور اور رجحان کے ساتھ ایک یا ایک سے زیادہ مسائل بھی پیدا ہوئے اور ان پر مدتوں بحث کا بازار بھی گرم رہا۔ اگر مسائل نہ ہوں تو ادبی چہل پہل ہی ختم ہو جائے ۔ ایک ایسی جمود کی صورت پیدا ہو جائے جسے امکانات سے عاری کہا جاسکتا ہے۔ امکانات وہیں نشو و نما پاتے ہیں جہاں امر بچے ہوتے ہیں اور جہاں کوئی خطر کوئی چیلنج ، کوئی تصادم کی صورت ہی نہ ہوں وہاں صرف تکرار نقلی اور جعلی ادب کے برگ و بار ہی پھوٹتے ہیں۔
وہ حضرات جو ادبی اور فنی مسائل سے آنکھیں چراتے ہیں اور کسی بھی تبدیلی، انحراف یا اختلاف کو غیر متعلق اور غیر غیر متعلق اور غیر ضروری گردانتے ہیں، ان کے لیے ذہن انسانی کے سفر کے نشیب و ے فراز کوئی معنی نہیں رکھتے۔ ادب کی تاریخ اور ادب کی روایت کا سلسلہ اقرار و انکار کے مجادلے کے ساتھ مشروط ہے اور انکار ہمیشہ اقرار کو پیچھے دھکیل دیتا ہے اور کبھی کبھی اسے بے معنی بھی بنا دیتا ہے۔ ادب وفن کے مسائل کی بنیاد اپنی پیش تر صورتوں میں انکار کے رویے پر قائم ہے۔ ان میں بعض مسائل کا تعلق زبان اور تخلیقی زبان سے ہے۔ بعض فنی تدابیر کے تعین سے متعلق ہیں۔ بعض کا تعلق تجربے اور تخیل سے ہے۔ تحلیل نفسی نے ادب کو کئی سطحوں پر متاثر کیا اور ادب سے اپنے معنی کی توثیق بھی کی ۔ گزشتہ صدی کے درمیانی عشروں میں ادب و نفسیات کے تعلق سے کئی بہترین مقالات اور کتا بیں سامنے آئیں جن سے یقینا نئے طریقے سے سمجھنے میں مدد ملی تخلیقی عمل کو ایک نئے زاویے سے دیکھا گیا ۔ بعض نئے اور دلچسپ ذہنی منطقوں کا ہم پر انکشاف ہوا۔ تحلیل نفسی سے متعلق اطلاقی تنقید بھی کی گئی اور ایسے کئی حقائق سے پردہ اٹھایا گیا جن سے تاریخ انسانیت تا هنوز اور بڑی حد تک بے بہرہ تھی ۔ ہم نے چند مقالات ہی پر اکتفا کیا اور ان میں بھی اطلاقی تنقید کی عملی مثالوں کو ہم اس لیے شامل نہیں کر سکے کہ وہ ہمارے منصوبے کا حصہ نہیں تھیں۔ ادب وفن کے دیگر مسائل کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جس کے لیے کئی جلدیں درکار ہیں۔
اس جلد کے شرکا نے ہی اسے قابل قدر بنایا ہے۔ میں ان کا شکرگزار ہوں اور ان کا بھی جنھوں نے قدم قدم پر میرا ساتھ دیا اور ہر طرح سے مجھے اپنا قیمتی وقت فراہم کیا۔ ان میں بالخصوص عزیزی احمد امتیاز اور میرے لیے بے حد محترم محمد نعمان خان صاحب کا ممنون ہوں اور ان کے لیے دعا گو ہوں ۔
عتیق الله
