اک آب زادی کے قرب میں Ik Abb Zadi K Qurb Mein Javed Khan
اک آب زادی کے قرب میں Ik Abb Zadi K Qurb Mein Javed Khan
Couldn't load pickup availability
150 in stock
نیچے اور ذرا پیچھے بڑے پل کے نیچے سے دریائے جل ہم ( جہلم) اور دریائے کشن گنگا مل جل کر بہہ رہے تھے۔ ایک دریا دوسرے میں آکر ضم ہو گیا تھا۔ اُس نے اپنا وجود اور اپنا نام تک مٹادیا تھا۔ مرغنا تو اسے کہتے ہیں۔ ایک دریا دوسرے کے لیے مر گیا تھا یا اس نے خود کو مار دیا تھا۔ اصطلاح میں اسے دریا کی موت کہتے ہیں۔
یہ کوئی خود کشی نہیں بل کہ خوشی خوشی اپنا آپ کسی کو سونپ دینے کی خوب صورت ادا ہے۔ جغرافیہ دان یا کوئی اور اسے موت بے شک کہے مگر یہ خود سپردگی ہے۔ اپنے آپ کو کسی کے حوالے کر دینا اتنا آسان تو نہیں۔ مگر اک سچے صوفی کا پہلا اصول یہی ہے۔ خود سپردگی ایک پر خطر کھیل ہے۔ جہاں دنیا میں بنتی بھی ہیں اور مٹتی بھی ہیں اور ایک دریا یہ کام به خوبی اور بڑی بے خوفی سے کر دیتا ہے۔ کیا دریا ایک سچا صوفی ہوتا ہے۔۔۔؟ کیا دریا کا راستا ایک سالک کا راستا ہوتا ہے۔۔۔؟ ملنا ، منا، مرنا اور پھر نیا جیون پاتا ۔۔۔ یہ سب کیا ہے ۔۔۔؟ یہاں سے کچھ فاصلے پر ایک اور دریا، دریائے کنہار آ کر خود کو مٹا دیتا ہے۔ پھر دُور یہاں سے کافی دور بہت آگے ایک نیلگوں دریا کو نچھ بہتا ہوا آتا ہے اور آتے ہی گم نام ہونا پسند کرتا ہے۔ مرنے، مٹنے اور گم نام ہو جانے کی ان اداؤں کو کیا نام دیا جائے۔۔۔؟ اور پھر جہلم جس پر کہیں چھوٹے بڑے دریا مر مٹے تھے وہ خود کو آگے ایک اور دریا کو سونپ دیتا ہے۔ نام ہے سندھو دریا، سندھور پتا ہوا، پھنکارتا ہو عظیم سمندر میں گم ہو جاتا ہے۔ کشش کا یہ عظیم قانون کیا کہلائے گا۔۔۔؟ کس اصطلاح کی دریافت کا محتاج ہے۔ ہم کشش ہلن، نامی اور گم نامی کی کہانیاں بنتی ان ندیوں کی ہم سائیگی میں خانہ به دوش ہوٹل پر کڑاہی کے منتظر تھے۔ بھوک نے ضرور ستایا ہوگا۔ مگر ندیوں کے کنارے، جہاں وقت کی ندی بھی بہہ رہی ہو بھوک ستا کر پھر ستا کر چلی گئی ہوگی ۔ (کتاب سے اقتباس)
Pages 200
Buy this Bundle
