{"product_id":"تنقیدکی-جمالیات-مارکسیت-نو-مارکسیت-ترقی-پسندی-tanqid-ki-jumaliyat-atiq-ullah","title":"تنقیدکی جمالیات مارکسیت، نو مارکسیت، ترقی پسندی  | Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eمارکسیت نے ہمارے زمانوں میں ایک انتہائی مسائلی فلسفے کی نوعیت اختیار کر لی ہے۔ اس میں بھی شبہ نہیں کہ تصورات کی تاریخ میں وہ ہنوز سب سے دھما کہ خیز اور اثر گیر دانشورانہ تحریک کا حکم رکھتی ہے۔ مارکسیت نے زندگی اور علم کے تقریبا ہر شعبے پر گہرے اثرات قائم کیے ۔ بالخصوص تاریخ ، سیاسیات، تہذیب، اقتصادیات، سماجیات حتی کہ تحلیل نفسی اور ادبی تھیوری کی تشکیل میں بھی مارکسی تصور کا اثر کسی نہ کسی پہلو سے دیکھا جا سکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eاپنے صحیح ترمعنی میں مارکسیت ایک مازی فلسفہ ہے جو انسانی زندگی میں معمول کا درجہ رکھنے والے تصورات یا عقائد کے مقابلے میں مادی زندگی کی حالتوں کے تقدم پر زور دیتا ہے۔ جس کے نزدیک تاریخ بہ الفاظ مارکس، طبقاتی جدو جہد کی تاریخ ہے۔ جو ان مادی حالتوں کو قابو میں رکھتی ہے جن پر زندگی کا انحصار ہے۔ انہیں حالتوں کی بنیاد پر اور ان کی جدو جہد کے جواب میں تصورات، فلسفے، زندگی کی ذہنی تصویر میں ایک ثانوی مظہر کے طور پر نمو پاتی ہیں۔ یہی ثانوی مظہر وہ ہے جو انسانوں کو ( بقول مارکس ) حقیقت کی ایک صحیح تر تصویر مہیا کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eروایتی مارکسی مفکرین بنیادی اور بالائی ساخت کے مابین امتیازات کو بہت زیادہ مسئلہ بناتے تھے کہ سماجی بنیاد اپنی ماہیت میں لازما اقتصادی ہے اور بالائی ساخت کا تعلق ان دینی سرگرمیوں اور اعمال سے ہے جنہیں تصورات، عقائد، فلسفہ تعلیم، تہذیب، مذہب (اور بعض سرگرمیوں اور کا مارکسیوں کے نظریے کے مطابق ) فن اور ادب کا نام دیا جاتا ہے۔ نو مارکسیوں نے ان کے مابین اثرات کی منطق پر غیر روایتی طریقے سے بحث کی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eمارکس کے نزدیک طبقہ اولی کے مقتدر تصورات کا نام آئیڈیولوجی ہے جسے مغلوب طبقے کے لیے ایک طاقتور اوزار کے طور پر کام میں لایا جاتا ہے۔ تعلیم ، تہذیب ، مذہب اور فلسفہ جیسے\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eسماجی ادارے ( سپر اسٹرکچرز) جو اقتصادی نابرابری کی توثیق کرتے ہیں اور جنہیں آسمانی دین یا فطرت کا نام دے کر مجبور و مظلوم طبقہ مقدر کے طور پر قبول کر لیتا ہے۔ مارکس اس قسم کے نظام خیال کو آئیڈیولوجی سے تعبیر کرتا ہے جس کے نزدیک عدم مساوات اور جور و جبر کا درجہ فطری ہے اور جو انہیں قانونی شکل دینے اور ان کے اطلاق میں مدد بھی کرتا ہے۔ اس طرح آئیڈیولوجی دبے کچلے طبقے کو اپنی دلی پچھلی حالت پر قانع کر دیتی ہے۔ مجبر یا اخیر طبقہ جب اپنی حالت پر تقدیر کے حوالے سے قانع ہو جاتا ہے تو اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ اس نے اقتصادی استحصال کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا ہے۔ مارکس نے مجبور طبقے کی اس ملط اندیشی کو باطل شعور\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e false consciousness \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eسے موسوم کیا ہے ۔ آجر طبقے کی آئیڈیولوجی کو استوار کرنے اور قائم رکھنے میں جو تہذیبی اوضاع کام آتے ہیں ان میں ایک تخیلی فن بھی ہے۔ ایک لحاظ سے فن اور ادب مقتدر طبقہ ہی کی آئیڈیولوجی کو سماج میں پھیلاتے ہیں۔ اس طرح ادبی متون جن روایات واقدار کو معیار کے طور پر اخذ کرتے ہیں وہ اصلاً آجر طبقے ہی کی روایات و اقدار ہوتی ہیں۔ مارکسی تنقید متن میں کارفرما ان آئیڈیولوجیوں کی نشاندہی کرتی اور اس تحت المتن کو اجاگر کرتی ہے جو بوجوہ دیا چھپارہ گیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eادب اور تہذیب کو ان کے عہد کی اقتصادی صورت حالات کی روشنی میں سمجھنے کے معنی سماجی اقتصادی صورت حال اور تہذیبی و جمالیاتی کارناموں کی نوعیت کے مابین ایک قطعی تعلق باہمی کو سمجھنے کے ہیں۔ اس طرح مارکسیوں کے نزدیک ادب و فن کو آئیڈیولوجی ، طبقہ اور اقتصادی ذیلی ساخت کے تناظر ہی میں پورے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eجو روایتی مفکرین اور نقاد مارکسی نظریات کو اصلاً مارکسی فکر کے ڈھانچے ہی میں سمجھنے اور سمجھانے کی طرف راغب رہے اور جنہوں نے بڑی قطعیت کے ساتھ ان کے اطلاق کی مساعی کیں ان میں لیون ٹراٹسکی ، لینن، جیورج پلیخوف اور کرسٹوفر کا ڈویل کے نام اہم ہیں۔ اینٹوگرامچی، جیورج لوکاچ، ارنسٹ فشر اور واز کیز نے مارکس کے ان تصورات کا تجزیہ نئی توضیحات اور نئی تعبیرات کے ساتھ کیا جن کا تعلق تاریخ ، سماج اور اقتصادی متعلقات سے تھا۔ انہوں نے ادب وفن پر اطلاق میں تھوڑی بہت گنجائشوں کے لیے بھی راہ نکالنے کی کوشش کی۔ لوشین گولڈ مین، لوئی اس تھیم سے ، پیرے ما شیرے، ای پی تھا مپسن ، ریمنڈ ولیمز ، فریڈرک جیمسن ، میری این گلشن اور والٹر بین جمن وغیرہ کے دور تک پہنچتے پہنچتے عالی سیاسی، اقتصادی، تہذیبی اور،۔۔۔\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":67598051311845,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0660\/7552\/5349\/files\/4_8f9a9d58-d990-498f-9794-e125d706e7d0.jpg?v=1790856676","url":"https:\/\/fictionhouselahore.com\/products\/%d8%aa%d9%86%d9%82%db%8c%d8%af%da%a9%db%8c-%d8%ac%d9%85%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d9%85%d8%a7%d8%b1%da%a9%d8%b3%db%8c%d8%aa-%d9%86%d9%88-%d9%85%d8%a7%d8%b1%da%a9%d8%b3%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d8%b1%d9%82%db%8c-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af%db%8c-tanqid-ki-jumaliyat-atiq-ullah","provider":"FICTION HOUSE","version":"1.0","type":"link"}