انارکیت کی الف بے ABC's Of Anarchism Book By Alexander Berkman
انارکیت کی الف بے ABC's Of Anarchism Book By Alexander Berkman
Couldn't load pickup availability
300 in stock
انارکیت کی الف بے
پیش لفظ از مصنف
میں انار کیت کو سماجی زندگی میں آزادی اور ہم آہنگی کے لیے ایک معقول ترین اور عملی ترین تصور سمجھتا ہوں۔ میں مکمل طور پر قائل بھی ہوں کہ بنی نوع انسان کی نمو اور ترقی کے دوران اس کا ادراک ایک یقینی امر ہے۔
اس ادراک کا وقت دو عوامل پر منحصر ہو گا، اول یہ کہ موجودہ حالات کتنی جلد روحانی اور مادی طور پر ، انسانوں کے ایک غالب حصے کے لیے نا قابل برداشت ہو جائیں گے ، خاص طور پر محنت کش طبقے کے لیے۔ اور دوم، کس حد تک ان انارکسٹ نظریات کو سمجھا اور قبول کیا جا چکا ہو گا۔
ہمارے سماجی ادارے مخصوص تصورات پر کھڑے ہیں۔ جب تک ان تصورات کو عمومی اعتماد حاصل ہے، ان پر استوار ہونے والے ادارے بھی محفوظ ہیں۔ حکومت مضبوط رہتی ہے کیونکہ لوگ سیاسی اتھارٹی اور قانونی جبر کو لازم تصور کرتے ہیں۔ سرمایہ داری اس وقت تک قائم و دائم رہے گی جب تک اس طرح کے معاشی نظام کو موزوں اور منصفانہ سمجھا جائے گا۔ ان نظریات کے جو موجودہ دور کے شیطانی اور جابرانہ حالات کو قوت فراہم کرتے ہیں، کمزور ہونے کا مطلب ہے کہ حکومت اور سرمایہ داری حتمی پر تحلیل ہو جائیں گے۔ ترقی ان نکات پر مشتمل ہے کہ زندگی میں فرسودہ ثابت ہونے والے معاملات رو بھی کر دیئے جائیں اور ان کے متبادل موزوں ترین حالات پیدا کیے جائیں۔
سرسری طور پر مشاہدہ کرنے والے فرد کو بھی آگاہ ہونا چاہیے کہ سماج اپنے بنیادی تصورات کے حوالے سے ایک شدید نوعیت کی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ عالمی جنگ اور روس کا انقلاب اس کے بنیادی اسباب ہیں۔ جنگ نے سرمایہ دارانہ مسابقت کے شیطانی کردار اور حکومتوں کی، قوموں یا حکمران مالیاتی گروہوں" کے درمیان تنازعات ختم کروانے کی قاتلانہ نا اہلی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کا پرانے طریقوں سے اعتماد ختم ہو رہا ہے اور اب بڑی طاقتیں بھی ہتھیاروں کی حد بندی اور جنگ تک کو غیر قانونی قرار دینے کے لیے بھی بات کرنے پر مجبور ہیں۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ اس طرح کے امکان کی تجویز کو شدید حقارت اور طنز کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
اسی طرح دیگر معتبر اداروں پر یقین بھی دم توڑ رہا ہے۔ ابھی تک سرمایہ داری سے معاملات چلائے جارہے ہیں لیکن اس کی مصلحت کوشی اور انصاف کے مسائل مزید سماجی حلقوں میں اذیت کا سبب رہے ہیں۔ انقلاب روس نے ایسے تصورات اور احساسات کو فروغ دیا ہے جو سرمایہ دارانہ سماج کو جڑوں سے کمزور کر رہے ہیں، خاص طور پر اس کی معاشی بنیادوں اور سماجی بقا کے لیے نجی جائیداد کا " تقدس" جیسے تصورات کو، کیونکہ اکتوبر کی تبدیلی صرف روس میں ہی نہیں ہوئی، اس نے دنیا بھر کے عوام کو متاثر کیا ہے۔ ہر دل عزیز یہ وہم کہ " جو موجود ہے، وہی مستقل بھی ہے " کو اس طرح جھٹکا گیا ہے کہ اب اس کا احیا ممکن نہیں نظر نہیں آتا۔
انقلاب روس ، جنگ اور بعد از جنگ کی پیشرفت نے مل کر سوشلزم کے بارے میں بھی ایک بڑے پیمانے پر نا امیدی پھیلائی ہے۔ یہ بات حرف بہ حرف سچ ہے کہ عیسائیت کی طرح سوشلزم نے بھی اپنی شکست سے دنیا فتح کی ہے۔ سوشلسٹ پارٹیاں اب زیادہ تر،،۔۔۔
Pages 184
