{"title":"Pro. Atiq Ullah","description":null,"products":[{"product_id":"تنقیدکی-جمالیات-دس-کتب-کا-سیٹ-tanqid-ki-jumaliyat-atiq-ullah","title":"تنقیدکی جمالیات  | دس کتب کا سیٹ | Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah","description":"\u003cdiv class=\"m8h3af8h l7ghb35v kjdc1dyq kmwttqpk gh25dzvf n3t5jt4f\"\u003e\n\u003cdiv dir=\"auto\"\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eکتاب: تعارف\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eتنقید کے مختلف اقسام ہیں۔جیسے نفسیاتی تنقید،استقرائی تنقید،تجزیاتی تنقید،عملی تنقید،مارکسی تنقید۔جمالیاتی تنقید اور نظریاتی تنقید وغیرہ جس کے تحت کسی بھی فن پارے کا تنقیدی تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔جمالیاتی تنقید ،تنقید کے دیگر دبستانوں سے اس بنا پر ممتاز ہوجاتی ہے کہ اس میں حسن اور حسن کا مطالعہ کو تنقید کی اساس ہی نہیں تصور کیا جاتا ہے بلکہ ان کے علاوہ اور کسی چیز کو تسلیم ہی نہیں کیا جاتا۔اسی لئے تو جمالیاتی نقاد ادبی تخلیقات میں حسن اور دلکشی پیدا کرنے والے خصائص کے تجزیہ اور مطالعہ کو اولین اور اساسی اہمیت دیتا ہے۔پیش نظر کتاب بعنوان \"تنقید کی جمالیات \"میں جمالیاتی تنقید کے اصول و ضوابط بتاتے ہوئے ،مختلف دبستانوں کے تحت جمالیاتی تنقید کا تجزیہ کیا ہے۔ کتاب کو پروفیسر عتیق اللہ نے مرتب کیا ہے۔ جس میں اعلی درجے کے نقادوں کے مضامیں شامل ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eتنقید کی جمالیات \u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e(\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eدس جلدوں کا سیٹ\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e)\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eکل صفحات  4381\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 14.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003c\/div\u003e\n\u003c\/div\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":43402215129317,"sku":"9789695622834","price":4950.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0660\/7552\/5349\/files\/49.jpg?v=1768569011"},{"product_id":"تنقیدکی-جمالیات-دس-کتب-کا-سیٹ-tanqid-ki-jumaliyat-atiq-ullah-تنقید-کی-اصطلاح-بنیادی-متعلقات","title":"تنقید کی اصطلاح، بنیادی، متعلقات  Atiq Ullah","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e  جلد 1 |  تنقید کی اصطلاح، بنیادی، متعلقات\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eصفحات | 416\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003eکتاب: تعارف\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 16.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';\"\u003e\u003cbr\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eتنقید کے مختلف اقسام ہیں۔جیسے نفسیاتی تنقید،استقرائی تنقید،تجزیاتی تنقید،عملی تنقید،مارکسی تنقید۔جمالیاتی تنقید اور نظریاتی تنقید وغیرہ جس کے تحت کسی بھی فن پارے کا تنقیدی تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔جمالیاتی تنقید ،تنقید کے دیگر دبستانوں سے اس بنا پر ممتاز ہوجاتی ہے کہ اس میں حسن اور حسن کا مطالعہ کو تنقید کی اساس ہی نہیں تصور کیا جاتا ہے بلکہ ان کے علاوہ اور کسی چیز کو تسلیم ہی نہیں کیا جاتا۔اسی لئے تو جمالیاتی نقاد ادبی تخلیقات میں حسن اور دلکشی پیدا کرنے والے خصائص کے تجزیہ اور مطالعہ کو اولین اور اساسی اہمیت دیتا ہے۔پیش نظر کتاب بعنوان \"تنقید کی جمالیات \"میں جمالیاتی تنقید کے اصول و ضوابط بتاتے ہوئے ،مختلف دبستانوں کے تحت جمالیاتی تنقید کا تجزیہ کیا ہے۔ کتاب کو پروفیسر عتیق اللہ نے مرتب کیا ہے۔ جس میں اعلی درجے کے نقادوں کے مضامیں شامل ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":48193839988965,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0660\/7552\/5349\/products\/Part_1.jpg?v=1768736956"},{"product_id":"مغربی-شعریات-مراحل-و-مدارج-تنقیدکی-جمالیات-tanqid-ki-jumaliyat-atiq-ullah","title":"مغربی شعریات: مراحل و مدارج  تنقیدکی جمالیات  Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eتنقید کی جمالیات کی دوسری جلد بہ عنوان ' مغربی شعریات: مراحل و مدارج اپنے تارکین کی نذر ہے۔ مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ پہلی جلد جو تنقید کی اصطلاح ، بنیادیں اور متعلقات جیسے موضوع کو محیط تھی ، غیر معمولی طور پر پسند کی گئی۔ ان قارئین میں بعض احباب کی مردت آمیز حسین بھی شامل ہے۔ بالخصوص ان طلبا کے تاثرات نے مجھے بے حد حوصلہ بخشا جو ابھی زیر تعلیم ہیں اور ادبیات کے مسائل سے جنہیں خاص رغبت ہے۔ اگر چہ یہ ترتیب کا کام ہے جسے میں نے کبھی توجہ کے لایق نہیں سمجھا تھا۔ اس طرح کے کام صرف انھیں کو زیب دیتے ہیں جن کی کوشش اور بجبل تحریر کی کمی کو ترتیب کے کام سے پورا کرنے کی ہوتی ہے۔ مجھے قطعی کوترتیب زیب نہیں دیتا کیونکہ اتنے بہت سے ادبی مسائل پر لکھنے کی تڑپ میں اپنے اندر محسوس کرتا ہوں اور یہ بھی محسوس کرتا ہوں کہ شاید پہاڑ اٹھانے کی سکت مجھ میں تاہنوز موجود ہے اور یادداشت کے سوتے بھی ابھی تازہ دم ہیں۔ میں نے جہاں تہاں اپنی اس سکت اور اس یادداشت سے خوب خوب کام لینے کی سعی کی ہے۔ تا کہ میرے قارئین میرے اور دوسروں کے مرتبہ کاموں کی نوعیت اور فرق کو کوئی خوبصورت نام دے سکیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eمیں نے پہلی جلد میں تنقید کی جمالیات کے عنوان سے اپنا جو مضمون شامل کیا ہے، وہ 50 صفحات پر محیط ہے۔ میں نے اس مقالے میں اپنے دلائل کی توثیق کے ضمن میں کم سے کم ۔ حوالوں کا استعمال کیا ہے۔ دماغ اتنی چیزوں سے بھرا ہوا تھا کہ دوسروں کی باتوں کو اگر بنیاد بنانے کی کوشش کرتا تو اپنی کئی ضروری باتیں تشنہ رہ جائیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ کوئی بڑا کارنامہ ہے۔ البتہ طلبا اور اساتذہ کی ضرورتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ مقالہ یقینا مفید مطلب ثابت ہوگا۔ میں اردو ادبیات کا استاد ہوں۔ اس لیے بھاری بھر کم عنوانات پر تو کافی کچھ لکھ چکا ہوں۔ اب کہیں نصابی موضوعات و مسائل کی طرف توجہ کی ہے۔ ادبی اصطلاحات کی وضاحتی فرہنگ بھی اس نوعیت کی ایک کوشش تھی جو تنقید کی جمالیات جیسے بسیط کام کے پہلو بہ پہلو اپنی تحمیل کے مرحلے میں ہے۔ اس جلد کا موضوع بھی کم از کم نصابی ضرورت کے تعلق سے خاص توجہ کا مستحق ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eجمیل جالبی، محمد ہادی حسین، محمد یسین، سجاد باقر رضوی اور وہاب اشرفی نے کلاسیکی شعریات و تنقید پر نہایت عمدہ کام کیسے ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی نے ارسطو کی فین شاعری\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e (Poetics) \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eکا ترجمہ کیا اور اس پر ایک بسیط مقالہ بھی قلم بند کیا۔ جو یقینا ایک مستقل حوالے کا حکم رکھتا ہے۔ فاروقی کا ارسطو، عزیز احمد اور جیل جالبی سے زیادہ واضح اور شفاف ہے۔ فاروقی کی تنقید کا کمال یہ ہے کہ دو ہزار برس پہلے کا ارسطو، آج کا ارسطو معلوم ہوتا ہے۔ فاروقی کے دلائل، توضیحات اور تعبیرات قدرے نئی ہیں۔ ان کے جوازوں میں اختلاف سے زیادہ اتفاق کا پہلو نمایاں ہے۔ اتفاق کے لیے بھی مطالعے کے ایک وسیع تر پس منظر کی ضرورت ہوتی ہے جس کی فاروقی کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eفاروقی ایک نقاد ہی نہیں، شاعر اور فکشن نگار بھی ہیں ۔ ان کی تنقید کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ مسائل کے حل کی طرف جتنی مائل ہوتی ہے اس سے زیادہ مسائل پیدا کرتی ہے۔ جو ہمیشہ ہمارے ذہنوں کو تحریک بخشتے ہیں اور جن سے گفتگو کے نئے دریچے کھلتے ہیں۔ فاروقی کی تنقید ایک مضطرب ذہن کی تنقید ہے۔ جس کے مطالعے کا کوئی ٹھکانہ نہ ہو اور جو ہمیشہ کرید کی طرف مائل رہتا ہو اس کی جستجو میں کبھی ماند نہیں پڑتیں۔ فاروقی کو ہمیشہ تازہ دم رہنے اور اپنی طرف متوجہ کرنے اور دوسروں کے ذہنوں میں قائم رہنے کا ہنر آتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eگوپی چند نارنگ کے دامن وصل کی وسعت بھی بے کنار ہے۔ یونان قدیم سے زیادہ انھیں مشرقی شعریات اپنی طرف مائل کرتی ہے۔ ہندوستانی لوک روایت سنسکرت جمالیات لسانیات اور لسانیات سے متعلق وہ تمام تصورات جن کا شمار اسلولیت، معنیات، معنویات اور نشانیات کے ذیل میں کیا جاتا ہے، تارنگ کے ذہن کے لیے محرک خاص کا حکم رکھتے ہیں۔ ساختیات و پس ساختیات کے مباحث کے علاوہ تہذیبی شعریات کی روشنی میں جس نوعیت کی عملی اور اطلاقی تنقید کی مثالیں انھوں نے پیش کی ہیں وہ نہ صرف اول درجے کی ہیں بلکہ ایک ایسے نئے طریق کار سے منصف بھی ہیں جس کی اپنی معنویت اور اپنا حل ہے۔ جلد ہذا میں گوپی چند نارنگ کے تحریر کردہ دو طویل مقالات بھی شامل ہیں جن میں رولاں بارتھ ، ژاک لاکاں، فو کو اور کرسٹیوا\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-bidi-font-family: Calibri; mso-bidi-language: ER;\"\u003e،،۔۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":67598041972965,"sku":null,"price":800.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0660\/7552\/5349\/files\/22_03014f85-6a74-404c-9759-9c4c61684695.jpg?v=1790856674"},{"product_id":"مشرقی-شعریات-اور-اردو-تنقید-کا-ارتقا-تنقیدکی-جمالیات-tanqid-ki-jumaliyat-atiq-ullah","title":"مشرقی شعریات اور اردو تنقید کا ارتقا | تنقیدکی جمالیات | Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eتنقید کی جمالیات سیریز کی یہ تیسری جلد ہے۔ پہلے اس کا نام اردو تنقید کا ارتقاء تجویز کیا تھا لیکن مشرقی شعریات کے ذیل میں سنسکرت شعریات جیسے وسیع الذیل موضوع کو شامل کیے برای کے ذیل میں کیا اسلامی بات ہے مکمل قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک بغیر مشرقی شعریات کا کوئی خاکہ مرتب کیا جا سکتا ہے اور نہ اسے مکمل قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک بغیر مشرقی کا کوئی خاکہ مرتب ام دی ال یا ان کی نہیں کیا ہے۔ الگ بحث ہے کہ ہم نے اس سے کتنا کچھ اخذ کیا ہے یا کچھ اخذ ہی نہیں کیا ہے۔ سنسکرت نہ شعریات کسی نہ کسی صورت میں آج بھی ہمارے مباحث کا ایک سرگرم موضوع ہے۔ ان سوالات پر بھی بحث کی کافی گنجائش ہے کہ لسانی اور فلسفیانہ تصورات کا وہ کس حد تک ساتھ دے سکتی ہے اور کسی حد تک وہ متصادم اور برمحل ہے۔ سنسکرت ادب اور سنسکرت نظام فن کی وسعتیں بے کنار ہیں ۔ اس کی ثروت مندی اس کی نزاکتوں اور لطافتوں اس کی گہرائی اور گیرائی کا مقابلہ دوسری کوئی زبان مشکل ہی سے کر سکتی ہے۔ ہندی تنقید سنسکرت شعریات کو حوالہ ضرور بناتی ہے اور اکثر مغربی تنقید سے تقابل بھی کرتی ہے، لیکن ہندی شعر و ادب پر اطلاق کرنے سے عموماً بے پرواہ نظر آتی ہے۔ مغرب میں جب بھی کسی نئی بحث کا آغاز ہوتا ہے تو ہم یہ محسوس کرتے ہیں جیسے سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا ہے۔ دیکھتے دیکھتے ہم اپنے لیے ماضی کی چیز بن گئے ہیں۔ ہمارے دماغوں پر یہ نئے مباحث اتنی تیزی سے حاوی ہو جاتے ہیں اور ان میں اتنی چکا چوند ہوتی ہے کہ ہمیں کچھ بھائی نہیں دیتا، پھر ایک سنبھالا لینے کے بعد ہم اپنے سراغ میں نکلتے ہیں ۔ اپنے ماضی کے گم کردہ اور فراموش کردہ تہذیبی اثاثے سے ان آلات کو ڈھونڈ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں جن کے بل پر ہم یہ دعوی کر سکیں کہ ہم اتنے دیوالیے نہیں ہیں۔ آج جسے نیا اور بہت نیا کہا جا رہا ہے وہ تو بہت پرانا ہے۔ ہمارے علماء اور ہمارے پنڈت تو یہ سب بہت پہلے بکھان کر چکے ہیں ۔ اردو تنقید ہی نہیں ہندی تنقید بھی یہی کرتی آئی ہے۔ عمیق حنفی نے بھی ایک جگہ اس صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e:\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eجدید ترین ہندی شاعری جدت اور آفاقیت کے خبط میں ہندوستان کی بہت سی ثقافتی قدروں اور روایتوں سے دست بردار ہوتی جارہی ہے۔ یہ شاعر رس، دھون ، النکار، ریت و کردت کے سدھانتوں کو بھی فرسودہ قرار دے کر خیال اور عصری آگہی کے راست، سادہ اور غیر مبہم ادائیگی پر سارا زور دیتے ہیں ۔\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e“\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eسنسکرت زبان میں فکر انگیزی اور تخلیقیت کی جو غیر معمولی قوت تھی اور اس نے لسانیاتی، فلسفیانہ اور تخلیقی کارناموں کا جو ایک جنگل سا کھڑا کر دیا تھا، اس کے اسباب بھی زبان کی قوتوں کی پرورش کے عمل میں پنہاں ہیں اس کتے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eاردو زبان میں ادب تخلیق کرنے کا عمل قدرے مشکل ہے کیونکہ ہم نے ابھی تک اپنی لسانی تہذیبی روایت کو برقرار رکھا ہے۔ ہندی نے عمل سنسکرت جمالیات کے بجائے علاقائی بولیوں اور اس کے ادب سے اپنے رشتے مضبوط کیے اس سے اُسے یقیناً بہت فائدہ پہنچا اور اس معنی میں نقصان بھی اٹھانا پڑا کہ سنسکرت کے سرچشموں کی طرف سے بے اعتنائی کو وطیرہ بنالیا گیا جس کے باعث ایک عمومی قسم کی سہل پسندی راہ پاگئی اب جس سے چھٹکارا پانا اتنا آسان نہیں ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eفارسی نظام اردو نظام شعریات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی جڑیں عربی اور فارسی نظام بلاغت میں پیوست ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تاریخی اور قدرے\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e situational \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eہے۔ اردو کے ابتدائی نشو و نما کے زمانوں ہی میں نہیں بلکہ بہت پہلے سے سنسکرت سمٹ کر ایک خاص اشرافیہ طبقے تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ سنسکرت ادب اور سنسکرت شعریات کے تراجم کی طرف بھی توجہ نہیں دی گئی جو اردو شعریات کی تشکیل میں ایک اہم کردار ادا کرسکتی تھی۔ ابتدا میں اردو کی طرف جو نسلیں رجوع ہوئیں وہ فارسی زبان میں دست گاہ رکھتی تھیں ۔ اس لیے ان کی شاعری میں بڑی سرعت اور آسانی کے ساتھ فارسی لفظیات اور فارسی اسالیب شعر رچ بس گئے اور آگے چل کر اردو شاعری کا لاشعور بنے میں انھیں دیر نہیں لگی۔ تاہم ہندوستانی متصوفانہ فکر، ہندوستانی اساطیری نظام، ہندوستانی موسموں اور عناصر فطرت کا پورا ایک پس منظر ہے جو اردو شعر و ادب کی مجموعی شناخت کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ اردو نے عرب و ایران سے لے کر وسط ایشیا تک سے جو لسانی اور فکری سانچے اخذ کیے تھے ان کے پہلو بہ پہلو مسکرت شعریات سے وہ اور زیادہ مالا مال ہو سکتی تھی۔ لیکن یہ ممکن نہ ہو سکا۔ یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیا اپنی بھی کوئی شعریات ہے جسے ہم اردو شعریات کا نام دے،۔۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":67598048362725,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0660\/7552\/5349\/files\/3_16b5a0d8-9c90-4f8a-a2d1-e5a5b935d54b.jpg?v=1790856676"},{"product_id":"تنقیدکی-جمالیات-مارکسیت-نو-مارکسیت-ترقی-پسندی-tanqid-ki-jumaliyat-atiq-ullah","title":"تنقیدکی جمالیات مارکسیت، نو مارکسیت، ترقی پسندی  | Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eمارکسیت نے ہمارے زمانوں میں ایک انتہائی مسائلی فلسفے کی نوعیت اختیار کر لی ہے۔ اس میں بھی شبہ نہیں کہ تصورات کی تاریخ میں وہ ہنوز سب سے دھما کہ خیز اور اثر گیر دانشورانہ تحریک کا حکم رکھتی ہے۔ مارکسیت نے زندگی اور علم کے تقریبا ہر شعبے پر گہرے اثرات قائم کیے ۔ بالخصوص تاریخ ، سیاسیات، تہذیب، اقتصادیات، سماجیات حتی کہ تحلیل نفسی اور ادبی تھیوری کی تشکیل میں بھی مارکسی تصور کا اثر کسی نہ کسی پہلو سے دیکھا جا سکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eاپنے صحیح ترمعنی میں مارکسیت ایک مازی فلسفہ ہے جو انسانی زندگی میں معمول کا درجہ رکھنے والے تصورات یا عقائد کے مقابلے میں مادی زندگی کی حالتوں کے تقدم پر زور دیتا ہے۔ جس کے نزدیک تاریخ بہ الفاظ مارکس، طبقاتی جدو جہد کی تاریخ ہے۔ جو ان مادی حالتوں کو قابو میں رکھتی ہے جن پر زندگی کا انحصار ہے۔ انہیں حالتوں کی بنیاد پر اور ان کی جدو جہد کے جواب میں تصورات، فلسفے، زندگی کی ذہنی تصویر میں ایک ثانوی مظہر کے طور پر نمو پاتی ہیں۔ یہی ثانوی مظہر وہ ہے جو انسانوں کو ( بقول مارکس ) حقیقت کی ایک صحیح تر تصویر مہیا کرتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eروایتی مارکسی مفکرین بنیادی اور بالائی ساخت کے مابین امتیازات کو بہت زیادہ مسئلہ بناتے تھے کہ سماجی بنیاد اپنی ماہیت میں لازما اقتصادی ہے اور بالائی ساخت کا تعلق ان دینی سرگرمیوں اور اعمال سے ہے جنہیں تصورات، عقائد، فلسفہ تعلیم، تہذیب، مذہب (اور بعض سرگرمیوں اور کا مارکسیوں کے نظریے کے مطابق ) فن اور ادب کا نام دیا جاتا ہے۔ نو مارکسیوں نے ان کے مابین اثرات کی منطق پر غیر روایتی طریقے سے بحث کی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eمارکس کے نزدیک طبقہ اولی کے مقتدر تصورات کا نام آئیڈیولوجی ہے جسے مغلوب طبقے کے لیے ایک طاقتور اوزار کے طور پر کام میں لایا جاتا ہے۔ تعلیم ، تہذیب ، مذہب اور فلسفہ جیسے\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eسماجی ادارے ( سپر اسٹرکچرز) جو اقتصادی نابرابری کی توثیق کرتے ہیں اور جنہیں آسمانی دین یا فطرت کا نام دے کر مجبور و مظلوم طبقہ مقدر کے طور پر قبول کر لیتا ہے۔ مارکس اس قسم کے نظام خیال کو آئیڈیولوجی سے تعبیر کرتا ہے جس کے نزدیک عدم مساوات اور جور و جبر کا درجہ فطری ہے اور جو انہیں قانونی شکل دینے اور ان کے اطلاق میں مدد بھی کرتا ہے۔ اس طرح آئیڈیولوجی دبے کچلے طبقے کو اپنی دلی پچھلی حالت پر قانع کر دیتی ہے۔ مجبر یا اخیر طبقہ جب اپنی حالت پر تقدیر کے حوالے سے قانع ہو جاتا ہے تو اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ اس نے اقتصادی استحصال کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا ہے۔ مارکس نے مجبور طبقے کی اس ملط اندیشی کو باطل شعور\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e false consciousness \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eسے موسوم کیا ہے ۔ آجر طبقے کی آئیڈیولوجی کو استوار کرنے اور قائم رکھنے میں جو تہذیبی اوضاع کام آتے ہیں ان میں ایک تخیلی فن بھی ہے۔ ایک لحاظ سے فن اور ادب مقتدر طبقہ ہی کی آئیڈیولوجی کو سماج میں پھیلاتے ہیں۔ اس طرح ادبی متون جن روایات واقدار کو معیار کے طور پر اخذ کرتے ہیں وہ اصلاً آجر طبقے ہی کی روایات و اقدار ہوتی ہیں۔ مارکسی تنقید متن میں کارفرما ان آئیڈیولوجیوں کی نشاندہی کرتی اور اس تحت المتن کو اجاگر کرتی ہے جو بوجوہ دیا چھپارہ گیا تھا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eادب اور تہذیب کو ان کے عہد کی اقتصادی صورت حالات کی روشنی میں سمجھنے کے معنی سماجی اقتصادی صورت حال اور تہذیبی و جمالیاتی کارناموں کی نوعیت کے مابین ایک قطعی تعلق باہمی کو سمجھنے کے ہیں۔ اس طرح مارکسیوں کے نزدیک ادب و فن کو آئیڈیولوجی ، طبقہ اور اقتصادی ذیلی ساخت کے تناظر ہی میں پورے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"ER\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif; mso-bidi-language: ER;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eجو روایتی مفکرین اور نقاد مارکسی نظریات کو اصلاً مارکسی فکر کے ڈھانچے ہی میں سمجھنے اور سمجھانے کی طرف راغب رہے اور جنہوں نے بڑی قطعیت کے ساتھ ان کے اطلاق کی مساعی کیں ان میں لیون ٹراٹسکی ، لینن، جیورج پلیخوف اور کرسٹوفر کا ڈویل کے نام اہم ہیں۔ اینٹوگرامچی، جیورج لوکاچ، ارنسٹ فشر اور واز کیز نے مارکس کے ان تصورات کا تجزیہ نئی توضیحات اور نئی تعبیرات کے ساتھ کیا جن کا تعلق تاریخ ، سماج اور اقتصادی متعلقات سے تھا۔ انہوں نے ادب وفن پر اطلاق میں تھوڑی بہت گنجائشوں کے لیے بھی راہ نکالنے کی کوشش کی۔ لوشین گولڈ مین، لوئی اس تھیم سے ، پیرے ما شیرے، ای پی تھا مپسن ، ریمنڈ ولیمز ، فریڈرک جیمسن ، میری این گلشن اور والٹر بین جمن وغیرہ کے دور تک پہنچتے پہنچتے عالی سیاسی، اقتصادی، تہذیبی اور،۔۔۔\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":67598051311845,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0660\/7552\/5349\/files\/4_8f9a9d58-d990-498f-9794-e125d706e7d0.jpg?v=1790856676"},{"product_id":"تنقیدکی-جمالیات-جدیدیت-مابعدجدیت-tanqid-ki-jumaliyat-atiq-ullah","title":"تنقیدکی جمالیات |جدیدیت، مابعدجدیت | Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eمیں نے ن۔م۔ راشد کی نظم اندھے کباڑی کے تجزیے میں اس مسئلے پر بالخصوص تاکید کے ساتھ توجہ دلائی کہ مابعد جدیدیت کی تھیوری کے تحت کوئی بھی مطالعہ اس قدر معصوم اور بے میل نہیں ہو سکتا کہ لفظ و معنی سے متعلق ان تصورات کا اس پر کوئی عکس ہی نہ پڑے جنہیں جدیدیت نے اپنا ایک خاص عنوان بنایا تھا ۔ کسی بھی تخلیقی فن پارے میں معنی کا وجود نامیاتی نوعیت رکھتا ہے، جو آپ اپنے کو جہاں رد کرتا ہے وہاں\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e grow \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eبھی کرتا ہے۔ جدیدیت نے معنی کو کثرت کے ساتھ وابستہ کیا تھا لیکن کثرت کے معنی حتمی یا فیصلہ کن کے نہیں تھے۔ ابہام نتیجہ تھا اس معنیاتی عدم تعین کا ۔ دوسری بات یہ کہ متن میں بے مرکزیت کی مثالوں کی ابتدا جدیدیت ہی سے ہوتی ہے۔ مونتاژ ، کولاژ یا اسمبلاژ سے متعلق مباحث کو کم از کم ادب میں جدیدیت ہی یا سے میں ہی نے ہوادی تھی ۔ اس تصور کو بھی مابعد جدیدیت کے تقاضے کا نام نہیں دینا چاہیے کہ کسی بھی تخلیق تصورکو کے تقاضے کانام دینا کسی بھی کے جزبہ جز تجزیے کا طریق کوئی نیا ہے یا جدیدیت کے کفر کے ٹوٹنے کے بعد اس کی بنیاد پڑی ہے۔ جزئیاتی اور تدریجی تاثرات کے بعد کی منزل ہی مجموعی تاثر کی ہے۔ مجموعی تاثر کے معنی قطعی اُس تدریجی تاثراتی سلسلے کے رد کے نہیں ہیں جو جزبہ جز داخلی ریزه کاری\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \u003c\/span\u003efragmentation\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"mso-spacerun: yes;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003eکی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eاس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ مابعد جدیدیت ، جدیدیت کے ایجنڈے کا تکملہ ہے یا جدیدیت اور مابعد جدیدیت میں ایسا کوئی گہرا باطنی یا خفیہ رشتہ ہے جو جدیدیت کو تا ہنوز تازہ دم رکھے ہوئے ہے۔ بیسویں صدی کی ذہنی اور تہذیبی زندگی کو سمجھنے کے لیے جدیدیت کی اسی\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eطور پر خاص اہمیت ہے جس طرح بیسویں صدی کے ربع آخر سے تا حال کی چینی، سماجی اور تہذیبی صورت حال کو مابعد جدید کے علاوہ کوئی اور نام دینا اب تقریباً ناممکن ہے۔ جدیدیت نے ادب، مصوری، موسیقی اور آرچی لیکچر جیسے فنون کے اکثر معمول میں آنے والے اور عادات کے حامل بنیادی عناصر کو نہ صرف چیلنج کیا تھا بلکہ مستر د بھی کیا تھا۔ سب سے زیادہ جس رجحان پر کاری ضرب پڑی تھی وہ تھا روایتی حقیقت پسندی کا تصور ، بہت جلد جس کی جگہ تجربہ پسندی نے لے لی تھی۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eما بعد جدیدیت کی ایک خصوصیت اس کے انتخابی طریق کار میں مضمر ہے۔ خود رو تحریر\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e aleatory writing \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eکا تصور بھی اسی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ تخلیق کار کے منشا اور قصد یا تخلیقی درمانی اس پارے کی صورت میں ماحصل یعنی\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e result \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eکے درمیان ہمیشہ ایک تناقض پایا جاتا ہے۔ تخلیقی نتشار یا عدم مرکزیت میں تناقض کی صورتیں فطری طور پر واقع ہوتی ہیں ۔ جدیدیت میں وحدت مرکزیت کی جستجو گہرے ناسٹلجیا کی مظہر ہے۔ اسی ناسٹلجیا میں عقیدے کی بازیافت کی تڑپ بھی شامل ہے۔ ٹی۔ ایس۔ ایلیٹ کی ویسٹ لینڈ یا عمیق حنفی کی نظم 'سند باد اور مصلصلة الجرس اس ناسٹلجیا کی مثالیں ہیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ جدیدیت کے نزدیک انتشار یا ریزہ کاری تأسف اور آزردگی کا سبب ہے تو مابعد جدیدیت کے حق میں جشن ہی جشن ہے۔ ایک کے لیے المیہ ہے تو دوسرے کے لیے طربیہ۔\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eجدیدیت میں جستجو کا ایک زاویہ ارتکاز ذات اور وحدت کے ساتھ مخصوص ضرور ہے لیکن وحدت کے معنی بھر کیلی آرائش و زیبائش کے نہیں ہیں ۔ ایک صوفیانہ بے پروائی اور ایک بے نیاز انہ قسم کی خود کوشی ہیئتی خودروی کے عمل میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اختر الایمان و عمیق حنفی، عادل منصوری اور قاضی سلیم وغیرہ کے تجربے کے انتشار اور نری آہنگ میں اس جذباتی اور نظمی نفاست کی تلاش بے سود ہوگی جو فیض احمد فیض یا سرداری جعفری کی نظموں کا خاصہ ہے۔ شاعری میں مشینی درشتی بیسویں صدی کی عمومی سقا خانہ تہذیبی درشتی کی تمثیل تھی۔ مصوری کے علاوہ آرچی ٹیچر کے اسالیب میں بھی اسی قسم مشینی درشتی ایک عمومی میلان کے طور پر در آئی تھی۔ ایڈولف لوف کا یہ اعلان کم دلچسپ نہ تھا کہ\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e decoration is crime \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eآرائش جرم ہے۔ مائس روہ کا یہ اصرار کہ\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":67598054195429,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0660\/7552\/5349\/files\/5_6d82618f-11b6-45b8-afec-a2d3e80c535d.jpg?v=1790856676"},{"product_id":"تنقیدکی-جمالیات-ساختیات-پس-ساختیات-tanqid-ki-jumaliyat-atiq-ullah","title":"تنقیدکی جمالیات ساختیات، پس ساختیات   Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eافلاطون اور ارسطو سے موجودہ عہد تک ادب کی زبان، ادبی اصناف یا شعری بیٹوں، محرکات اور مجموعاً ان کے تاثر کی صلاحیتوں کو موضوع بحث بنانے کی روایت کا جو ایک سرگرم سلسلہ جاری ہے، اُس کی رو اور رفتار کبھی یکساں نہیں رہی۔ لسانیات، تاریخ ، فلسفہ، نفسیات اور سماجیات جیسے مختلف علوم اور دوسری زبانوں کے شعری قواعد یا یہ کہیے کہ شعریات نے ہمیشہ تنقید کے قائم کردہ کلیوں کو تہس نہس کیا، نئی ترجیحات کی نشو و نمو کی نئی تکنیکوں، ادبی اور لسانی تجربوں حتی کہ نئی اصناف اور ہیٹوں کی اختراع کے لیے ذہنی اور تخلیقی سطح پر آمادہ بھی کیا۔ ادبی تاریخ اور ادبی روایت کی ثروت مندی ، تصورات کی نئی تنظیم اور ان کے مسلسل محاسبے ، ان کی قطع و برید اور ترمیم و اضافے کے متوازی عمل میں مضمر ہے۔ ایک تصور دوسرے تصور کو بے دخل کرتا ہے تو اس کے ایک معنی یہ بھی ہوئے کہ اس نے یہ وجوہ اپنے معنی کو دیے ہیں، زبان وادب کے تقاضوں سے تطابق کی راہ میں خلل واقع ہو چکا ہے۔ نئے علوم اور زندگی کے نئے تجربات نے جس نئی حسیت کی تشکیل کی ہے اس کی ترغیبات کا خاکہ کچھ اور ہی طرح کی رنگ آمیزی کا تقاضہ کر رہا ہے۔ اس طرح فکر و محسوسات کے متداول سانچے ٹوٹتے رہتے ہیں اور نئے سانچے خلق ہوتے رہتے ہیں۔ جو ہمیشہ روایتی شعریات کے لیے ایک چیلنج کا حکم رکھتے اور بالآخر اس کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eساختیات اور پس ساختیات کے ورود سے پہلے بھی رد و ضخ اور تنکیر و توسیع کی صورتیں\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eپیدا ہوتی رہی ہیں ۔ مارکس اور فرونڈ کے تصورات و تحقیقات ہی کی طرح ساختیات کو بھی ایک نئے خیرہ کن اور انقلابی نظریے سے تعبیر کیا گیا ہے اور پس ساختیات نے اس سے بہت کچھ خوشہ چینی بھی کی اور بہت کچھ رد بھی کیا۔ انکار کے معنی کبھی مکمل طور پر انکار کے نہیں ہوتے اور انکار کی مہلت ہمیشہ ایک محدود عرصہ زماں پر محیط ہوتی ہے۔ لیکن اس کا اثر کئی صدیوں اور نسلوں کو محیط ہوتا ہے۔ کسی چیز سے انکار اس چیز کی آگہی کے بعد کا مرحلہ ہے ۔ آگہی ، قبولیت کے ہم معنی نہیں لیکن یہ کبھی نہیں ہوتا کہ مکمل طور پر انکار کے دعوے کے باوجود آگہی کے بعض اجزا اس کے عمل میں شامل نہ ہوں بلکہ بعد کی نسلیں ہمیشہ انکار کے عمل میں ان اجزا کو تلاش کرتیں، چھان پھٹک کرتیں اور تطابق، انحراف، توسیع اور استرداد کے عوامل کی گند یا اصلیت تک پہنچنے کی کوششیں کرتی رہتی ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eساختیات کو پس ساختیات نے گزشتہ صدی کے ساتویں دہے میں بے دخل کیا۔ لیکن دریدا کو بے دخل کرنے کی ترغیب بھی ساختیات ہی سے ملی بلکہ یہ کہا جائے کہ رو تشکیل کا پیج ساختیات ہی کی زمین سے پھوٹا ہے۔ ساسیر نے ساختیاتی تصور نہ قائم کیا ہوتا تو دریدا رڈ کے کرتا۔ ۔ ۔ اس لیے ساختیات کی اہمیت اور معنویت کو کم کیا جا سکتا ہے، لیکن زبان اور ادراکی حقیقت کا جو تصور اس نے دیا ہے اس کی وقعت کو نہیں جھٹلایا جاسکتا۔ دریدا کے رو تشکیل کے تصور کے\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \"Structure, Sign and Play in the Discourse of the \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eسلسلے میں دریدا کے مقالے\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e (1966) \"Human Science \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eکا ذکر ضروری ہے جو اس نے جانسن ہاپکنس یونیورسٹی کے ایک بین الاقوامی مذاکرے میں پیش کیا تھا۔ اس مقالے میں پہلی بار ساسیئٹر کے زبان کے ساخت کے تصور کو سوال زد کیا گیا تھا۔ دریدا نے لیوی اسٹراس کے لسانیاتی منظم ساخت کے دعوے اور مرکز کے اس تصور کو بھی سوال زد کیا تھا جو اس کے نزدیک ساخت کی تنظیم کرتا اور اسے ضابطہ بند کرتا ہے۔ سائر اس مرکز کو داخلی رشتوں کے افتراقی غیر ختم کھیل کو قابو میں رکھنے کے تفاعل پر کار بند بتاتا ہے، دریدا ۔ کہ مرکز سے انکار کے معنی بنیاد، قطعی اور جوہر سے انکار کے ہیں۔ دریدا کے علاوہ رولاں بارتھ ( بعد کے دور میں ) فو کو اور لاکاں بھی اس تمام علم اور صداقت کی معقولیت کو بے مرکز بتاتے ہیں جن کا انحصار خود تصدیق کر دہ بنیادوں پر ہے اور جو عمل ترسیل کے امکان کے تصور پر قائم ہیں۔ فلسفے میں بنیاد مخالف تصور معنی علم ، صداقت، قدر،،۔۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":67598060617957,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0660\/7552\/5349\/files\/6_900a7518-a848-4b31-b897-45de60aa6a8e.jpg?v=1790856676"},{"product_id":"تنقیدکی-جمالیات-رجحانات-و-تحریکات-tanqid-ki-jumaliyat-atiq-ullah","title":"تنقیدکی جمالیات رجحانات و تحریکات | Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eیہ ساتویں جلد ہے، جو آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اسے میں نے اپنے منصوبے کے تحت رجحانات و تحریکات تک محدود رکھا ہے۔ میں نے مصلحنا اور دانستہ ادبی کے سابقے سے گریز کیا کیونکہ بعض ایسی تحریکات اور رجحانات بھی ہیں جو اپنی اساس میں فلسفے یا کسی اور علم وفن سے متعلق ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تخلیقی ادب پر ان کے اثرات کی بنا پر وہ مشرف بہ ادب ہو گئے لیکن ان کے بنیادی فکر و افکار پر بحث ہماری مجبوری ہے۔ تنقید کی دنیا میں اکثر مباحث فلسفیانہ امور تعبیرات کی طرف مڑ جاتے ہیں۔ کبھی کبھی ادبی بحث خاصی فلسفیانہ شکل اختیار کر لیتی ہے۔ سقراط، افلاطون اور ارسطو کے علمی اور جمالیاتی نوعیت کے مباحث نے تو صدیوں یک ادب و تنقید کے بازار کو گرم رکھا۔ تجربیت\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e Empricism\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e، تشکیکیت\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e Scepticism \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eفطرتیت ،\u003c\/span\u003eMaterialism \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eمادیت\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e Agnosticism \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eلاادریت\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e Rationalism \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eمعقولیت واحدیت ،\u003c\/span\u003eIdealism \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eعینیت\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e Marxism \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eمارکسیت\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e Realism \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eحقیقیت\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e Naturalism Determinism \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eجبریت\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e Absolutism \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eقطعیت ، \u003c\/span\u003eDualism \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eمحویت\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e Monism \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eمظہریت\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e Phenomenalism \u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e، نائجیت\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e Pragmatism \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eوغیرہ تصورات اساسا فلسفیانہ ہیں اور یہ آپس میں متصادم بھی ہیں ۔ راست یا نار است ادب و تنقید نے ان سے اپنے فکری سانچے تشکیل دیے اور ادیبوں نے انھیں اپنے طرز احساس کا حصہ بھی بنایا۔ گویا ان فکری سانچوں کو محسوساتی سانچوں کا نام بھی دیا جاسکتا ہے۔ میرے لیے ان سب کو ایک ہی زمرے میں باندھنا بہت مشکل کام تھا۔ اس لیے اپنی اس جلد کا عنوان محض تحریکات و رجحانات رکھنے پر ہی اکتفا کیا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eدوسری پریشانی، یعنی عملی دقت یہ تھی کہ اس منصوبے کے تحت آٹھویں جلد تصورات پر پنی ہے۔ ہم جنہیں ارجحان سے موسوم کرتے ہیں اس کی بنیاد اصلاً کی تصور یعنی\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e Concept \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eپری ہوتی ہے۔ جب کوئی تصور، ایک سے زیادہ تخلیقی فن کاروں کے یہاں عمومی شکل اختیار کر لیتا ہے تب ہم اسے رجحان سے تعبیر کرنے لگتے ہیں۔ ایسے کئی مصوری سے اخذ کردہ تصورات مثلا مع ،\u003c\/span\u003eMontage \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eمونتاژ ،\u003c\/span\u003eCollage \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eکولاژ ، \u003c\/span\u003eCubism \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eمکعبی ، \u003c\/span\u003eImpressionism \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eتاثریت کاریت\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e Assemblage \u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e، وغیرہ کے اثرات استقبال پسندوں\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e Futurists \u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e، دادائیوں\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e Dadaists \u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e، ماورائے حقیقت پسندوں (سرریلسٹوں )\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e Surrealists \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eکے یہاں واضح ہیں۔ جدیدیت کے تحت جو اسالیب وضع ہوئے اور جن تکنیکوں نے عمومیت اختیار کی ان کی پشت پر بھی کم و بیش یہی فنی رجحانات کام کر رہے تھے ۔ حتیٰ کہ عمارت سازی، نقاشی اور سنگ تراشی جیسے فنون میں جن میلانات نے نمو پائی جیسے بیقوارہ\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e Barrocco \u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"RTL\"\u003e\u003c\/span\u003e، اس کے اثرات پہلے مصوری کے فن پر قائیم ہوئے پھر لوئی ڈی گنگورا (1627-1561) (اسپینی ادیب) کے ایک مخصوص اسلوب کی تشکیل میں اس کا خاص کردار رہا۔ کنگورا ہی کے نام سے ادب میں گنگور بیت\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e Gangorism \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eکی اصطلاح رائج ہوئی اور ناپلی شاعر گیا ہے ٹٹامیر نو (1625-1569) کے یہاں میر نیت\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e (Marinism) \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eکا نام پایا۔ یہ تمام تصورات ایک نئے\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e Mannarism \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eکی جستجو سے عبارت تھے۔ موسیقی کے فن پر بھی یہ کسی نہ کسی طور پر اثر انداز ہوئے اور خود موسیقی کے فن میں جو تجربے عمل میں آتے رہے، ان کے اثر سے شاعری بھی نہ بچ سکی اور یہ بھی کہا گیا کہ شعر کی معراج موسیقی ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Arial',sans-serif; mso-ascii-font-family: Calibri; mso-ascii-theme-font: minor-latin; mso-hansi-font-family: Calibri; mso-hansi-theme-font: minor-latin; mso-bidi-theme-font: minor-bidi;\"\u003eمیرے لیے یہ طے کرنا مشکل تھا کہ کے رجحانات و تحریکات کے ضمن میں جگہ دی جائے اور کے محض تصورات کے ذیل میں رکھا جائے ۔ بعض رجحانات یا تصورات کو کسی دوسری جلد میں بھی جگہ دینی پڑی۔ مثال مغربی شعریات \/ تنقید کی تاریخ وار روایت میں ساختیات اور پس ساتقیات سے متعلق دانش وروں کو بھی شامل کرنا پڑا۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو اس جلد کوئی تنقید ( نیو کرسٹزم ) ہی پر ختم کرنا پڑتا۔ گویا پچاس ساٹھ برس پہلے جو ادبی اور لسانی تصورات کارفرما تھے۔ ان کے بعد تعطل ہی تعطل ہے۔ ساختیات و پس ساختیات کی بنیاد سازی میں فلسفیانہ منطق\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":67598123139301,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0660\/7552\/5349\/files\/7_0273026a-40fa-4290-8697-ac26142dee1e.jpg?v=1790856675"},{"product_id":"تنقیدکی-جمالیات-تصورات-tanqid-ki-jumaliyat-atiq-ullah","title":"تنقیدکی جمالیات تصورات | Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eادب میں ادوار کی تعین کاری کے دوران ہم اکثر بڑے مخمصے میں پھنس جاتے ہیں۔ تاریخی تعین کا ہمارے پاس کوئی ایسا پیمانہ نہیں ہوتا جس کے اطلاق میں ہم ایک دوسرے سے بخوشی اتفاق کرنے کے لیے تیار ہوں اور یہ محسوس کریں کہ ہم نے جو کچھ طے کیا ہے اسے اگلی سلیں بھی بخوشی قبول کر لیں گی ۔ تاریخ کو ہم جتنا شفاف سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں وہ اتنی ہی پچیدہ اور کبھی کبھی گم رہی کا باعث ہوتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ادب میں رجحانات و تصورات کے لحاظ سے کوئی عہد بھی معصوم و بے میل نہیں ہے۔ حتی کہ وہ زمانے بھی کسی ایک جہت کے ساتھ خصوصیت نہیں رکھتے جنھیں محض کسی ایک حاوی تحریک کے ساتھ وابستہ کر کے دیکھا جاتا ہے۔ تخلیقی نفس انسانی ہمیشہ انکار و اقرار کے مابین گردش کرتا رہتا ہے۔ جو جتنا قبول کرتا ہے اتنا ہی اور کبھی کبھی کچھ زیادہ ہی رو کی طرف بھی مائل ہوتا ہے۔ یا اس کے رد کی حیثیت محض ایک سے اتنا محرم کی ہوتی ہے۔ ہر رد و انکار متقی نہیں ہوتا ، وہ منفی کا تاثر دے سکتا ہے۔ اکثر رد و انکار ہی سے انقلاب انگیز تحقیقات و اسالیب نگر نے جنم لیا ہے یا کسی نئی توسیع یا اس کے امکان کی گنجائش بھی نکلی ہے۔ ادب کی تاریخ میں رومانویت کی تحریک ہی وہ پہلی تاریخ ہے جس کی بنیادی شناخت ہی انکار سے قائم ہوتی ہے۔ رومانویت کو نو کلاسیکیت کا رد عمل بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن رومانویت میں کلاسیکی عناصر اور کلاسیکیت میں رومانوی عناصر کی نشاندہی بھی کی جاتی رہی ہے۔ یہی صورت ہر دور کے ادب اور اس سے متعلق رجحان تحریک اور تصور کی ہے۔ حتیٰ کہ یہ آپس میں اتنے خلط ملط ہوتے ہیں کہ انھیں ایک دوسرے سے ممیز کرنا بھی اتنا آسان نہیں ہوتا ۔ باوجود اس کے ہر دور اور ہر نسل کے ذہنی اور حسی تجربوں، نفسیاتی گرہوں کی صورتوں ، ادراک حقیقت کے طریقوں\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e \u003cspan dir=\"RTL\"\u003eاور بصیرتوں کی نوعیت اور ان کی سطحیں یقینا پیش رو ادوار اور پیش رو نسلوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ یہی وہ میزان ہیں جو مجموعاً شناخت کی کوئی ایک کلید بھی فراہم کرتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ جدیدیت سے قبل کسی زبان کے ادب میں اتنا بڑا انقلاب رونما نہ ہوا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eشیکسپیئر نے جب\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003cspan dir=\"LTR\"\u003e\u003c\/span\u003e tragic-comedies \u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\"\u003eلکھیں اور کلاسیکی ڈرامائی تکنیکوں سے انحراف کیا تو اسے مطعون بھی کیا گیا ۔ ڈرائڈن، ارسطو کا قائل ہونے کے باوجود اندھا دھند تقلید کا قائل نہ تھا ۔ جدیدیت نے حقیقت پسندی اور نیچر لزم یا روایت سے اپنے رشتے منقطع کرنے کی جو کوشش کی اور ایک نئی بوطیقا کی داغ بیل ڈالنے کا دعویٰ کیا۔ ادب و روایت کی تاریخ میں ایک بہت بڑا دھما کہ تھا۔ رومانویت سے بھی بڑا لیکن اپنے دور میں رومانویت خود ایک بڑے دھماکے سے کم بہ تھی ۔ ماضی کی کسی تحریک یا میلان سے جدیدیت کے سلسلے کو جوڑا جاسکتا ہے تو وہ رومانویت ہی ہے۔ اس معنی میں جدیدیت کو نو رو بانوی رجحان کا نام بھی دیا گیا۔ رومانویت سے انکار کی روش میں غیر معمولی شدت پیدا ہوگئی تھی اور فلسفے اور سائنس کی دنیا میں بھی انقلابی تبدیلیاں عمل میں آرہی تھیں۔ مذہبی اقداری نظام کو کئی قسم کے نئے چیلنجز کا سامنا تھا۔ عقلیت نے مقبول خاص و عام میزان کی حیثیت اختیار کر لی تھی۔ جمالیات کے اکثر ان تصورات کا اثر زائل ہونے کے درپے تھا جو صدیوں سے برقرار چلے آرہے تھے اور جن سے روگردانی عقائد سے روگردانی کے برابر تھی۔ اس تبدیل شدہ صورت حال میں اظہار و خیال کی آزادی کے تصور نے چیلنج کرنے اور چیلنج قبول کرنے کی صلاحیتوں پر جلا کاری کی اور تشکیک اور سوال زد کرنے کے اس رجحان کو تقویت بخشی جس کے پہلے آثار تیرہویں صدی کے راجر بیکن اور سترہویں صدی کے فرانس بیکن کے یہاں ملتے ہیں۔ گلیلیو ، لاک، نیوٹن، ہیوم، والٹیر اور روسو کے بعد سائنسی دنیا میں ڈارون اور فلسفے کی دنیا میں ہیگل اور بعد ازاں مارکس و اینگلز نے تقریباً سارے اقدار نظام کو الٹ پلٹ دیا۔\u003c\/span\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eدراصل انیسویں صدی سے موجودہ ادوار تک ادبی اور فلسفیانہ سطح پر ہی نہیں مختلف علوم انسانیہ میں بھی مطلقیت نے اضافیت کی جگہ لے لی ۔ ہر سطح پر عقلی دلائل، تجربے اور تحقیق کی اہمیت دو چند ہو گئی۔ سائنس کی دریافتوں نے مذہبی تو ہاتی نظام کی بنیادیں ہلا دیں اور یہیں سے ایک نئی آگہی، ایک نئے شعور کا آغاز ہوا، ماضی سے ہمارا انقطلاع تو نہیں ہو لیکن ہمارے لیے ماضی ایک بار بار دو ہرانے والا سبق نہیں رہا۔ ہم ماضی پر غور کر سکتے ہیں، اس سے بہت کچھ اخذ\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":67598150566117,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0660\/7552\/5349\/files\/8_fe3c565e-b87d-4fe7-a4d3-2629793f6cdb.jpg?v=1790856676"},{"product_id":"تنقیدکی-جمالیات-ادب-تنقید-کے-مسائل-tanqid-ki-jumaliyat-atiq-ullah","title":"تنقیدکی جمالیات ادب تنقید کے مسائل | Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eادب و تنقید کے مسائل کی فہرست بے حد طویل ہے۔ اس میں سے انتخاب کرنا ایک دوسرا بہت بڑا مسئلہ تھا۔ بہت سے مباحث گزشتہ جلدوں میں پہلے سے شامل کیے جاچکے ہیں ۔ ادبی اور فنی تصورات بھی ایک لحاظ سے مسائل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تمام ادبی اور فنی تحریکات و رجحانات کیا ہیں اصلاً مسائل ہی ہیں۔ بلکہ ہر نئے تصور اور رجحان کے ساتھ ایک یا ایک سے زیادہ مسائل بھی پیدا ہوئے اور ان پر مدتوں بحث کا بازار بھی گرم رہا۔ اگر مسائل نہ ہوں تو ادبی چہل پہل ہی ختم ہو جائے ۔ ایک ایسی جمود کی صورت پیدا ہو جائے جسے امکانات سے عاری کہا جاسکتا ہے۔ امکانات وہیں نشو و نما پاتے ہیں جہاں امر بچے ہوتے ہیں اور جہاں کوئی خطر کوئی چیلنج ، کوئی تصادم کی صورت ہی نہ ہوں وہاں صرف تکرار نقلی اور جعلی ادب کے برگ و بار ہی\u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif; mso-bidi-language: ER;\"\u003e \u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eپھوٹتے ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eوہ حضرات جو ادبی اور فنی مسائل سے آنکھیں چراتے ہیں اور کسی بھی تبدیلی، انحراف یا اختلاف کو غیر متعلق اور غیر غیر متعلق اور غیر ضروری گردانتے ہیں، ان کے لیے ذہن انسانی کے سفر کے نشیب و ے فراز کوئی معنی نہیں رکھتے۔ ادب کی تاریخ اور ادب کی روایت کا سلسلہ اقرار و انکار کے مجادلے کے ساتھ مشروط ہے اور انکار ہمیشہ اقرار کو پیچھے دھکیل دیتا ہے اور کبھی کبھی اسے بے معنی بھی بنا دیتا ہے۔ ادب وفن کے مسائل کی بنیاد اپنی پیش تر صورتوں میں انکار کے رویے پر قائم ہے۔ ان میں بعض مسائل کا تعلق زبان اور تخلیقی زبان سے ہے۔ بعض فنی تدابیر کے تعین سے متعلق ہیں۔ بعض کا تعلق تجربے اور تخیل سے ہے۔ تحلیل نفسی نے ادب کو کئی سطحوں پر متاثر کیا اور ادب \u003c\/span\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eسے اپنے معنی کی توثیق بھی کی ۔ گزشتہ صدی کے درمیانی عشروں میں ادب و نفسیات کے تعلق سے کئی بہترین مقالات اور کتا بیں سامنے آئیں جن سے یقینا نئے طریقے سے سمجھنے میں مدد ملی تخلیقی عمل کو ایک نئے زاویے سے دیکھا گیا ۔ بعض نئے اور دلچسپ ذہنی منطقوں کا ہم پر انکشاف ہوا۔ تحلیل نفسی سے متعلق اطلاقی تنقید بھی کی گئی اور ایسے کئی حقائق سے پردہ اٹھایا گیا جن سے تاریخ انسانیت تا هنوز اور بڑی حد تک بے بہرہ تھی ۔ ہم نے چند مقالات ہی پر اکتفا کیا اور ان میں بھی اطلاقی تنقید کی عملی مثالوں کو ہم اس لیے شامل نہیں کر سکے کہ وہ ہمارے منصوبے کا حصہ نہیں تھیں۔ ادب وفن کے دیگر مسائل کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جس کے لیے کئی جلدیں درکار ہیں۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eاس جلد کے شرکا نے ہی اسے قابل قدر بنایا ہے۔ میں ان کا شکرگزار ہوں اور ان کا بھی جنھوں نے قدم قدم پر میرا ساتھ دیا اور ہر طرح سے مجھے اپنا قیمتی وقت فراہم کیا۔ ان میں بالخصوص عزیزی احمد امتیاز اور میرے لیے بے حد محترم محمد نعمان خان صاحب کا ممنون ہوں اور ان کے لیے دعا گو ہوں ۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eعتیق الله\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":67598165901541,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0660\/7552\/5349\/files\/9_995847f2-e6c5-4b00-a48a-9676e86f429b.jpg?v=1790856676"},{"product_id":"تنقیدکی-جمالیات-اضافی-تنقید-ادبی-اصناف-کا-تنقیدی-مطالعہ-tanqid-ki-jumaliyat-atiq-ullah","title":"تنقیدکی جمالیات اضافی تنقید، ادبی اصناف کا تنقیدی مطالعہ | Tanqid Ki Jumaliyat Atiq Ullah","description":"\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eاضافی تنقید کی جلد ہذا پر میرا یہ کام اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔ یہ ایک بہت بڑا منصوبہ تھا، میں نے جب یہ کام شروع کیا تھا تب حوصلے بہت بلند تھے۔ میں ہر جلد کے لیے زیادہ سے زیادہ لکھنا چاہتا تھا۔ ہر موضوع میں میرے لیے وافر سامان کشش تھا۔ لیکن دوسری مصروفیتوں نے بھی مہلت نہ دی۔ نتیجتا دوسرے کرم فرماؤں پر زیادہ اکتفا کرنا پڑا۔ بعض تحریریں محض خانہ پری کے طور پر شامل کی گئیں ، بعض عنوانات پر کوئی خاطر خواہ تحریر نہیں مل سکی۔ اس لیے ان تمام جلدوں میں یقینا بہت سی کمیاں ہیں جن کا مجھے شدید احساس ہے۔\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eایک بات اور عرض کرنا چاہوں گا کہ بعض تصورات کو رجحانات و تحریکات میں اور بعض رجحانات کو تصورات میں، اسی طرح بعض مقالات کو جدیدیت و مابعد جدیدیت اور بعض کو ساختیات و پس ساختیات میں رکھا جا سکتا تھا لیکن ضخامت کے دامن کو اپنے منصوبے کے تحت بہت زیادہ نہیں پھیلایا جا سکتا تھا سو اپنے جذبے پر قدغن لگانا پڑا۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eمیں ایک بار پھر ان تمام حضرات کا تہہ دل سے ممنون ہوں جن کی تحریریں ان جلدوں میں شامل ہیں۔ ان حضرات سے معذرت خواہ ہوں جن کی پیش قیمت تحریریں مجھے بعد میں میسر آئیں اور انھیں بہ وجوہ شامل نہیں کر سکا۔ اپنے ان تمام معاونین کا بھی شکر گزار ہوں جنھوں\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\" align=\"right\" style=\"text-align: right;\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eنے اپنا قیمتی وقت مہیا کیا اور پروف ریڈنگ سے لے کر کتابوں کی فراہمی تک میری مدد کی۔ لئے عزیزی محمد اکرام کے لیے بھی دعا گو ہوں کہ اگر انھوں نے دوسرے کاموں کے مقابلے لیے دعاگو میرے کام کو ترجیح نہ دی ہوتی تو اس کام کو پتہ نہیں مزید اور کتنا وقت لگ جاتا۔ اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ان کی سلیقگی اور محنت کا خاص دخل ہے۔ میں ان کا بھی شکر گزار ہوں۔ ایک بار پھر عزیزی خواجہ محمد اکرام الدین کا شکریہ، ان کا اصرار اور حوصلہ افزائی قدم قدم پر شامل رہی۔ میں ان کے لیے صمیم قلب سے دعا گو ہوں ۔ اپنی نصف بہتر فریدہ عتیق اور شبیع اللہ کے لیے بھی دل سے دعائیہ کلمات نکلتے ہیں جنھوں نے ہر طرح گھر کے ساز و سامان کی بے ترتیبی کو برداشت کیا اور ہر سطح پر مجھے اپنا تعاون بھی دیتے رہے۔\u003c\/span\u003e\u003cspan style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003e\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e\n\u003cp class=\"MsoNormal\"\u003e\u003cspan lang=\"AR-SA\" dir=\"RTL\" style=\"font-size: 10.0pt; line-height: 107%; font-family: 'Noto Nastaliq Urdu',sans-serif;\"\u003eعقیق الله\u003c\/span\u003e\u003c\/p\u003e","brand":"Fiction House","offers":[{"title":"Default Title","offer_id":67598170521829,"sku":null,"price":1000.0,"currency_code":"PKR","in_stock":true}],"thumbnail_url":"\/\/cdn.shopify.com\/s\/files\/1\/0660\/7552\/5349\/files\/10_acbf8946-5a74-4d41-b396-772f2d271a22.jpg?v=1790856676"}],"url":"https:\/\/fictionhouselahore.com\/collections\/pro-atiq-ullah.oembed","provider":"FICTION HOUSE","version":"1.0","type":"link"}